خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 769
خطبات طاہر جلد ۹ 769 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء میں کسی اور نے کوئی دخل نہیں دیا اور میں کامیاب ہو گیا لیکن اس محنت کا پھل گھر پہنچتے تک بھی اگر مالک یہ فیصلہ کر لے کہ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکے گا تو وہ فائدہ نہیں اُٹھا سکے گا۔اگر گھر میں پہنچ بھی جائے اور وہ بظاہر سمجھے کہ میں اپنی محنت کے پھل پر قابو پا چکا ہوں، یہ میرا ہو چکا ہے اگر مالک یہ سمجھے کہ اس سے اس محنت کرنے والے کو فائدہ نہیں پہنچنا چاہئے تو وہ محنت کرنے والا خود دنیا سے اٹھ سکتا ہے یا اور کوئی ایسی بلا اس پر نازل ہو سکتی ہے کہ گھر میں پھل موجود ہے لیکن محنت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تو مالک ایک ایسے کامل صاحب اختیار وجود کا تصور پیدا کرتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے جو سیاست کا بھی بادشاہ ہے، جو مالکیت کا بھی بادشاہ ہے اور ملوکیت کا بھی یعنی وہ تمام اختیارات بھی رکھتا ہے جو ایک مالک اپنی کسی چیز پر رکھتا ہے۔خواہ وہ بادشاہ ہو یا نہ ہو۔ایک چھوٹے سے چھوٹا غریب آدمی بھی کچھ نہ کچھ اختیار رکھتا ہے ایک روٹی کا ٹکڑا بھی اگر اس کو بھیک کے طور پر ملا ہو تو وہ اس ٹکڑے پر تھوڑا سا اختیار رکھتا ہے۔تو مالک کے اندر یہ تمام اختیارات آ جاتے ہیں جن میں بادشاہ کو دخل دینے کا کوئی حق ہی نہیں پہنچتا اور اگر وہ چاہے بھی تو ہر ایک کے اختیار چھین نہیں سکتا۔تو مالک ایسے عظیم وجود کو کہتے ہیں جو ہر چیز کا حقیقی مالک ہے۔چھوٹی ہو یا بڑی ہو اور ملک کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں یعنی بادشاہ کے اختیارات میں جو مالکیت کے دوسرے اختیارات میں نہیں ہوا کرتیں۔بادشاہ قانون بنا دیتا ہے، بادشاہ جب چاہے کسی کو Dispossess کر دیتا ہے۔اسی کے اختیارات وقتی طور پر چھین لیتا ہے، سوائے اس کے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جن پر انسان کا اختیار رہتا ہی ہے وہ چھین نہیں سکتا وہ اس کو اس کی ہر چیز سے ، Possession سے محروم کر سکتا ہے لیکن اس کے خیالات کے قبضے سے محروم نہیں کر سکتا۔پس خدا جب مالک بنتا ہے تو ہر چیز کا مالک بن جاتا ہے۔وہ بندے کے خیالات کا بھی مالک بن جاتا ہے اور جب چاہے ان کو بھی تبدیل فرما سکتا ہے۔وہ ہر ذی شعور کے شعور کا مالک بن جاتا ہے اور جب وہ بادشاہ بنتا ہے تو جس سے چاہے جس کو چاہے محروم کر دے۔یہ مضمون قرآن کریم نے مختلف سورتوں میں مختلف آیات میں بیان فرمائے ہیں جیسا کہ فرمایا: اللهمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (آل عمران: ۲۷)