خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 768 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 768

خطبات طاہر جلد ۹ 768 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء سے تعلق جوڑیں تو اِيَّاكَ نَعْبُدُ دوبارہ کہیں اور پھر سوچیں کہ رحمان خدا نے آپ کے لئے کیا کیا کچھ پیدا کیا ہے۔رحمان کا تصور قائم ہی نہیں ہو سکتا جب تک عدل کا تصور نہ ہو کیونکہ رحمان عدل سے بالا ہے اور اوپر ہے۔بالا ان معنوں میں نہیں کہ بے نیاز بلکہ عدل کے قیام کے بعد رحمانیت کا مضمون شروع ہوتا ہے۔پس جو شخص عدل پر ہی قائم نہیں وہ یہ کیسے کہہ سکتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ في الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رحمان تو ضرورت سے بڑھ کر دینے والا حق سے بڑھ کر دینے والا ، بن مانگے دینے والا۔پس یہاں تعلقات کے دائرے ربوبیت کی ایک بالاشان دکھانے لگتے ہیں۔ربوبیت کا مضمون زیادہ ارتقائی صورت میں انسانی ذہن میں اُبھرتا ہے اور اس کے اعمال پر جلوہ گر ہوتا ہے۔پس جب اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتے ہیں تو یہاں ” “ سے مراد اللہ تو ہے ہی کہ اے خدا تجھ سے مگر خدا کی کس شان سے تعلق باندھا جارہا ہے۔ربوبیت کا مضمون ایک تعلق پیدا کرے گا تو رحمانیت کا مضمون ایک دوسرا تعلق پیدا کرے گا۔پھر رحیمیت کا مضمون ہے جس میں محنت کا پورا پورا اجر بلکہ محنت سے کچھ بڑھ کرا جر دینے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ایک انسان اپنے تعلقات کے دائرے میں بڑی آسانی کے ساتھ اپنے آپ کو پرکھ سکتا ہے کہ کیا میں جب کہتا ہوں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تو رحیم تک میری حمد کی آواز پہنچتی بھی ہے کہ نہیں یا رحیمیت کو میں واقعی قابل تعریف سمجھتا ہوں اور اگر سمجھتا ہوں تو پھر میں خود کیوں رحیم بنے کی کوشش نہیں کرتا۔پس جہاں جہاں اس کے اس سوال کے جواب میں ایک منفی تصویر ابھرتی ہے یا بے رنگ تصویر ابھرتی ہے وہیں وہیں اس کا إيَّاكَ نَعْبُدُ کہنا اثر سے خالی ہوتا چلا جاتا ہے۔جہاں منفی تصویراً بھرتی ہے اس کا مضمون بعد میں بیان ہوگا کہ پھر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔آگے بڑھیں تو مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ تک آپ پہنچ جاتے ہیں۔مالک میں خدا تعالیٰ کی نہ صرف مالکیت کی صفت بیان ہے بلکہ ملوکیت کی صفت بھی بیان ہے یعنی مالک کے اندرسب چیزیں داخل ہو جاتی ہیں لیکن جب يَوْمِ الدِّینِ کے ساتھ مالک کا مضاعف ہو تو ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مالک جس کے قبضہ قدرت میں تمام انجام ہیں۔کوئی چیز اس سے بھاگ کر باہر نکل ہی نہیں سکتی۔ساری عمر کوئی شخص محنت کرے اور وہ سمجھے کہ میری اس کوشش