خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 760 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 760

خطبات طاہر جلد ۹ 760 خطبه جمعه ۱۴ر دسمبر ۱۹۹۰ء تو خدا تعالیٰ کی صنعتوں میں تو ہر جگہ رحمانیت جلوہ گر دکھائی دیتی ہے اور رحمانیت کو تخلیق میں ڈھالنے کے لئے علم کی ضرورت ہے کیونکہ تخلیق میں سائنس بھی ہے اور ٹیکنالوجی بھی ہے۔یہ دو چیزیں اکٹھی ہو کر تخلیق میں ڈھلتی ہیں۔علم کے بغیر تخلیق ممکن ہی نہیں ہے۔پس علم جب درجہ کمال کو پہنچا ہوتب تخلیق خوبصورت ہوتی ہے اور اس کے باوجود تخلیق کوئی عملی جامہ نہیں اوڑھ سکتی یا عمل کی صورت میں ڈھل نہیں سکتی جب تک ساتھ ٹیکنالوجی بھی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کو ، رحمان خدا کو علم کے بغیر رحمانیت کو تخلیق میں ڈھالنے کی استطاعت ہی نہیں ہو سکتی تھی اور سب سے زیادہ عالم وہ ہوتا ہے جو چیز کو خود بنانے والا ہے۔دوسرے بھی سمجھتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔کسی کے بنائے ہوئے ماڈل پر غور کرتے ہیں اور گہرائی میں اترنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جو بنانے والا ہے اس سے بڑھ کر عالم دنیا۔میں کوئی نہیں ہوسکتا۔پس رحمان میں ہی علم بھی شامل ہے اور رحمان ہی میں تخلیق بھی شامل ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تو بلا شبہ کوئی ناقص سودا نہیں کر رہے ہوتے۔کوئی خوف والا سودا نہیں کر رہے ہوتے۔کامل یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس سے ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ صرف تیری عبادت کریں گے اور کسی اور کو عبادت کے لائق نہیں سمجھیں گے ہم پورے یقین اور عرفان کے ساتھ یہ عہد کر رہے ہیں۔ان کا یہ مطالبہ ایک طبعی آواز ہے جو اس کے پیچھے آنی چاہئے کہ اے ہمارے معبود! پھر ہماری ضرورتیں بھی تو ہی پوری کرنا کیونکہ تو تمام ضرورتیں پوری کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مضامین ہیں مگر اب چونکہ وقت ختم ہو رہا ہے اگر وقت ملا میں انشاء اللہ اسی مضمون پر مزید گفتگو ا گلے خطبے میں کروں گا اور اگر بیچ میں ایسا کوئی اور امر زیادہ فوری توجہ کے لائق آیا تو پھر ایک خطبے کا ناغہ کر کے پھر انشاء اللہ آئندہ خطبے میں اس مضمون کی طرف آؤں گا تا کہ لوگ جو ہر وقت ہمیشہ پوچھتے رہتے ہیں کہ آپ نے کچھ بتایا تھا لیکن ابھی پیاس نہیں بجھی کچھ اور بتائیں۔نمازوں کو ہم کس طرح زندہ کریں تو جہاں تک خدا مجھے تو فیق عطا فرمائے میں چاہتا ہوں کہ اس ذمہ داری کو ادا کر دوں اور آپ کو نمازوں کو زندہ کرنے کے کچھ راز سمجھا دوں۔اگر ہماری نمازیں زندہ ہو جائیں تو ہم زندہ ہوں گے اور ساری انسانیت زندہ ہوگی کیونکہ عبادت کی زندگی کے سوا انسان کو زندگی نصیب نہیں ہوسکتی۔وہ دیکھتے ہوئے بھی اندھا رہے گا۔وہ سنتے ہوئے بھی بہرا رہے گا وہ بظاہر بولنے کی طاقت رکھے گا مگر بیان سے خالی ہوگا کیونکہ