خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 754
خطبات طاہر جلد ۹ 754 خطبه جمعه ۱۴ دسمبر ۱۹۹۰ء خدا تک پہنچادیں لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ آپ کے اندر خدا تک پہنچنے کی طلب پیدا ہو۔اگر طلب پیدا ہو جائے تو پھر آپ کو اس بات کا عرفان حاصل ہو گا کہ دراصل آپ خدا تک نہیں پہنچتے خدا آپ تک پہنچتا ہے۔حواس خمسہ کے ذریعے آپ ہر چیز تک پہنچ جاتے ہیں لیکن خدا کی توفیق کے بغیر خدا کو پانہیں سکتے۔پس ثابت ہوا کہ حواس خمسہ بذات خود خدا تعالیٰ تک پہنچانے کی اہلیت نہیں رکھتے امکانات پیدا کرتے ہیں۔اب ان دو چیزوں میں بڑا فرق ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے مثال دی تھی بڑے بڑے علماء دنیا میں موجود ہیں جو سائنس کے ایسے ماہرین ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تخلیق کی باریک دربار یک چیز وں تک ان کی نگاہ پہنچتی ہے اور جہاں پہنچ کر ٹھہرتی ہے وہاں ان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ابھی تم نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا اس سے پرے علم کے اور بھی جہان ہیں۔پس نہ صرف یہ کہ وہ نظر رکھتے ہیں بلکہ نظر کے اندر عمق رکھتے ہیں، گہرائی رکھتے ہیں اور پھر بھی خدا تک نہیں پہنچتے۔لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الانعام ۱۰۴۰) قرآن کریم فرماتا ہے کہ تمہاری آنکھیں، تمہاری بصارت خدا تک نہیں پہنچ سکتی هُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ہاں وہ ہے جو تمہاری قوت ادراک تک پہنچتا ہے۔کتنا عظیم الشان نکتہ اس میں بیان فرما دیا گیا اور امر واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عظمت و لطافت اور اس کا اعلیٰ ہونا اور اس کا عظیم ہونا اور اس کا اکبر ہونا یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو انسانی حواس خمسہ کو نا کام کر دیتی ہیں کہ انسان محض ان کے زور سے خدا کی عظمت کو پالے اس کے علوم کو پالے، اس کی کبریائی کو پالے اور اس کی ذات کی گہرائی تک اتر سکے۔پس سطحوں تک جا کر ہمارے حواس ٹھہر جاتے ہیں۔اس کے بعد پھر اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا دور شروع ہوتا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ چیز جو ہمیں بظاہر دکھائی دے رہی ہے یہ بڑی پیاری ہے لیکن اس کے پیچھے کوئی اور ذات چھپی ہوئی ہے۔پس ہم اس کی عبادت کریں۔جب اس کی عبادت کرتے ہیں اور حمد کو اس کے ساتھ ملاتے ہیں تو پھر وہ ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ حمد کی تو فیق بھی اسی سے ملتی ہے۔پس إيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے یہ مضمون مکمل ہو جاتا ہے۔پس حواس خمسہ کے ذریعے آپ کوشش کریں لیکن ساتھ یہ دعا کرتے رہیں کہ اے اللہ تعالیٰ ! اے خدا!! تو ہمارے حواس خمسہ پر نازل ہو۔ان پر جلوہ فرما کیونکہ جب تک تو اپنی صفات کا جلوہ ہم پر نہیں فرماتا اُس وقت تک ہم دیکھتے ہوئے بھی