خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 752 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 752

خطبات طاہر جلد ۹ 752 خطبه جمعه ۱۴ر دسمبر ۱۹۹۰ء لذت کو ایسی طاقت بخشی ہے کہ انسان حسن کی تلاش میں زندگی بسر کر دیتا ہے۔شعراء نظر سے تعلق رکھنے والی لذت کا اپنے کلام میں ذکر کرتے ہیں۔ساری زندگی اس بات پر صرف کر دیتے ہیں کہ ہم نے حسن کو اس طرح جلوہ گر دیکھا، اس طرح جلوہ کر دیکھا۔کھانے کی لذت سے ہر انسان آشنا ہے اور اگر محض ایسا کھانا ملے جو اس کی ضروریات پوری کرتا ہو لیکن لذتیں زیادہ مہیا نہ کر سکے تو انسان بیزار ہو جاتا ہے۔بعض گھروں میں اس وجہ سے میاں بیوی کی لڑائیاں طلاق تک پہنچ جاتی ہیں کہ بیوی کو کھانا نہیں اچھا پکانا آتا۔ہر روز کی بک جھک، بک جھک ہوتے ہوتے بالآ خر نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور خاوند کہتا رہتا ہے کہ تو تو ہے ہی بے سلیقہ۔تیرے ہاتھ میں تو مزہ ہی کوئی نہیں حالانکہ جہاں تک جسم کی ضرورت کا تعلق ہے وہ تو اُسے مہیا ہو رہی تھی۔اسی طرح آپ اپنے دیگر حواس پر غور کریں تو کم سے کم ضرورت بہت تھوڑی تھی اس سے بہت زیادہ عطا کیا گیا ہے اور اس عطا کرنے کی صفت کا نام جو ضرورت حقہ سے زیادہ ہو رحمانیت ہے۔پس جب آپ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہتے ہیں اور ربوبیت کے نظارے اپنے ذہن میں تصویر کی طرح گھماتے ہیں تو اپنے گردو پیش اپنی ذات میں ، اپنی اولاد کی صورت میں ، اپنے ماں باپ کی صورت میں ، اپنے دوستوں کی صورت میں ، اپنے معلمین کی صورت میں ہر طرف سے آپ کور بوبیت کے نظارے مختلف شکلوں میں دکھائی دینے لگیں گے اور جس دن کی جو نماز ہے اس دن جو خاص ربوبیت کا اثر دل پر پڑنے والی بات ہے وہ نمایاں طور پر اپنے ذہن میں آپ حاضر کر سکتے ہیں اور روز مرہ کے بدلتے ہوئے تجارب کے ساتھ ساتھ ربوبیت کے مختلف نقشے آپ کے ذہن میں اُبھر سکتے ہیں اور جب آپ رحمانیت میں داخل ہوں تو آپ کے حواس خمسہ نے اُس دن آپ کو جو بھی لذت پہنچائی ہے وہ لذت حمد میں تبدیل ہو جائے گی۔آپ اُس وقت نماز پڑھتے ہوئے یہ سوچ سکتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ایسا عجیب ہے میرا رب کہ ساری کائنات کا نظام اُس نے سنبھالا ہوا ہے۔تمام کائنات کی ربوبیت فرما رہا ہے اور کسی کے حال سے کسی کی ضرورتوں سے غافل نہیں ہے لیکن ضرور تیں ایسی پوری کرتا ہے کہ ضرورت پورا کرتے وقت ضرورت سے زیادہ یعنی کم سے کم ضرورت سے زیادہ لذتیں عطا کر دیتا ہے۔پس اگر چہ رحمانیت کا مضمون یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ اسے آغاز کہنا بھی درست نہیں ہوگا کیونکہ رحمانیت کے ذکر میں یہ