خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 749
خطبات طاہر جلد ۹ 749 خطبه جمعه ۱۴ ردسمبر ۱۹۹۰ء کے ہر لمحے سے تعلق ہے اور ہمارے گردو پیش یہ مضمون بنتا چلا جاتا ہے اگر ہم ہوشمندی کے ساتھ محسوس کریں کہ ہم کیسے رہ رہے ہیں اور اپنے ماحول کے اثرات کو خدا تعالیٰ کی حمد کے ساتھ باندھنا سیکھ لیں پھر جب آپ نماز میں داخل ہوں گے تو وہ نماز کیفیتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔اگر نماز سے باہر کچھ نہیں ہے تو نماز کے اندر بھی کچھ پیدا نہیں ہوگا۔اس لئے بعض لوگ جو یہ حیران ہوتے ہیں کہ ہم تو نماز میں داخل ہوئے تھے لذتیں حاصل کرنے کے لئے ہمیں تو وہاں کوئی لذت نہیں ملی باہر کی دنیا میں لوٹے اور پھر لذتوں میں دوبارہ کھوئے گئے۔وہ بالکل درست کہتے ہیں کیونکہ باہر کی لذتوں کا خدا سے تعلق نہیں تھا اور اندر نماز خالی پڑی تھی اس لئے خالی ویرانے سے گھبرا کر وہ اُن لذتوں کی طرف لوٹتے ہیں جن کا خدا کی ذات سے تعلق نہیں ہے۔یعنی تعلق ہے تو سہی مگر وہ سمجھے نہیں ، رشتے تھے تو سہی مگر وہ باند ھے نہیں گئے اس لئے وہ اس مادی دنیا سے لذت پانے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن روحانی دنیا سے لذت پانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔پس اپنی سوچ کو انگیخت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سوچ کے بغیر دل میں جذبات پیدا نہیں ہوا کرتے۔بعض لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ قلبی کیفیت اور چیز ہے اور دماغ اور چیز ہے۔حقیقت میں ایک دوسرے سے الگ ان کا وجود نہیں ہے۔قرآن کریم نے سوچوں کے آخری مرکز کے طور پر فؤاد کا یعنی دل کا ذکر فرمایا ہے اور دلوں کو ہی اندھا قرار دیا اور دلوں ہی کو دیکھنے والا بیان کیا۔جس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ دماغ کی آخری حقیقت بھی دل پر منتج ہوتی ہے اور آخری صورت میں چونکہ کیفیتیں بن جاتی ہیں اور کیفیتوں کا مرکز دل ہے۔اس لئے قرآن کریم بھی دماغ کی بجائے دل کا ذکر کرتا ہے۔پس اپنی سوچ کو بیدار کریں تو آپ کے دل میں عرفان کی لہریں دوڑنے لگیں گی اور عرفان کی لہریں ہی ہیں جو وہ کیفیت پیدا کرتی ہیں جس سے نماز میں لذت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے محبت اور پیار بڑھتے رہتے ہیں۔اب حواس خمسہ کا میں نے ذکر کیا ہے اس سے پہلے میں پچھلے خطبے میں David Attenborough کی ایک دو وڈیوٹیسٹس کا ذکر کر چکا ہوں۔مجھے بعد میں کسی نے بتایا کہ جو کچھ انہوں نے وڈیو کی صورت میں پیدا کیا ہے اس کو انہوں نے کتابی شکل میں بھی ڈھالا ہوا ہے اور ان کی تصنیف بھی ملتی ہے۔مگر بہر حال یہ ایسی چیزیں ہیں جو ہر کس و ناکس کی پہنچ میں نہیں اور نماز ہر شخص نے پڑھنی ہے تو بعض لوگوں کی رسائی ایسے مواد تک ہوتی ہے جن سے خدا تعالیٰ کے فضل کے