خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 736
خطبات طاہر جلد ۹ 736 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء اور اگر ان کا رُخ بدل جائے تو دوسرا جو ایک دوسرے کے سامنے پہلے آئے گاوہ روشن ہو جائے گا اور جود دوسری طرف چلا جائے گا وہ بجھ جائے گا اور اُن کے اندر چھوٹے چھوٹے قمقمے سے بھی لگے ہوئے ہیں مختلف شکلوں میں جب چاہیں وہ اُن کو روشن کر لیں تو روشنیوں کے ذریعے گفت و شنید کا ایک نظام خدا تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے اور وہ صرف مذکر اور مؤنث کے درمیان گفت وشنید کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کو مختلف حالتوں میں مختلف کیفیات بتانے کے لئے روشنیوں کے ذریعے پیغام بھیجتے ہیں لیکن ابھی پوری طرح اُن کے حالات کو انسان سمجھ نہیں سکا۔اول تو یہ کہ بہت مشکل کام ہے دوسرا یہ کہ سائنسدانوں کا جب ایک طرف دماغ چل پڑے تو عادت پڑ جاتی ہے ہر بات کا وہی نتیجہ نکالتے ہیں۔اتنی سی بات سمجھ آگئی کہ مرد اور عورت میں آپس میں تعلق ہوتا ہے تو ہر اشارے کا یہ مطلب نکالنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی کائنات وسیع ہے وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرہ : ۲۵۶) وہ تو خدا کی کسی چیز کے ایک چھوٹے سے پہلو کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔إِلَّا بِمَا شَاء جس کی خدا توفیق بخشے، جتنا چاہے ان کو علم عطا فرما دیتا ہے۔تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں جب ہمیں یہ بتایا کہ تم کائنات میں خدا تعالیٰ کی تخلیق پر غور کیا کرو۔اگر لِأُولِي الْأَلْبَابِ ہو۔فرمایا لِأُولِي الْأَلْبَابِ ہی نہیں کرتے ہیں۔صاحب علم اور عقل غور کرتے رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کائنات کیسے بنائی ہے، کیا کیا نظام اُس میں رکھے ہوئے ہیں، کس طرح خدا تعالیٰ کی صفات اس کائنات میں جلوہ گری کرتی ہیں؟ اور جب وہ یہ دیکھتے ہیں تو اُس سے ذکر الہی پیدا ہوتا ہے اور یہی عقل کی تعریف ہے۔نہ اکیلا ذکر الہی کوئی معنی رکھتا ہے جس میں عقل شامل نہ ہو۔آنکھیں بند کر کے آپ کسی کی تعریف کرتے رہیں آپ کو پتا ہی نہ ہو کہ تعریف کس چیز کی کر رہے ہیں اُس کو ذکر کہنا ہی حماقت ہے اور چیز دیکھ رہے ہیں مگر تعریف پیدا نہیں ہو رہی، صاحب حمد کی طرف ذہن نہیں جارہا یہ بھی ایک اندھا پن ہے تو عقل کی نشانی یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں میں امتزاج ہو جائے، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ کی عجیب شان آپ کو ہر جگہ دنیا میں پھیلی ہوئی دکھائی دے گی جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا ہے : تسمح لَهُ السَّمُوتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَ إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ کہ دیکھو اُسی کی تعریف کر رہے ہیں سارے آسمان یعنی