خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 737
خطبات طاہر جلد ۹ 737 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء سات آسمان اور زمین اور جو کچھ اُن میں ہے اور کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی حمد اور تسبیح میں مصروف نہ ہو مگر تم سمجھتے نہیں۔پھر آوازوں کے ذریعے جو ایک دوسرے سے جانور باتیں کرتے ہیں اُن کے متعلق ہمیں اتنا تو علم ہے کہ ہم یعنی انسان ایک دوسرے سے اس طرح باتیں کرتے ہیں لیکن جانوروں کے متعلق ہم یہی سمجھتے ہیں کہ صرف ایک دو ایسے اشارے ہیں خوف کے یا حرص کے جو وہ اپنی چیخوں کے ذریعے یا بے ہنگم آوازوں کے ذریعے ایک دوسرے کو سمجھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر امر واقعہ یہ ہے کہ جب جانوروں کی زندگی پر تحقیق کی جائے اور ان کی آوازوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بہت کچھ اور بھی معلوم ہونے لگتا ہے۔آجکل کے زمانے میں سائنسدانوں نے اس علم کی طرف توجہ کی ہے اور معلوم کرنا شروع کیا ہے کہ پرندے جب آوازیں نکالتے ہیں تو کیا صرف خوف کی آواز ہی ہے یا کچھ اور بھی باتیں ہیں۔چنانچہ اُن کو پتا چلا کہ صرف خوف کی یا اُمید کی باتیں نہیں بلکہ اور بھی اشارے اپنی آوازوں میں وہ کرتے ہیں لیکن چونکہ ہمارے سُننے کی جو Wavelengths ہیں یعنی ارتعاش کے اندر کتنی مرتبہ اونچ نیچ پیدا ہوتی ہے آواز کے ارتعاش میں اُس کو Wavelengths کہتے ہیں۔ایک ارتعاش اور دوسرے ارتعاش کی پیک (Peak) کے درمیان آپس میں کیا فاصلہ ہے۔بہر حال یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کی مجھے اُردو نہیں آ رہی تو میں Wavelengths کے طور پر آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔آواز کوسننے کا خدا تعالیٰ نے ہمارا ایک دائرہ مقرر فرما دیا ہے اُس دائرے سے کم Wavelengths کی آوازوں کو ہم نہیں سُن سکتے اُس دائرے سے آگے بڑھی ہوئی Wavelengths کی آوازوں کو ہم نہیں سن سکتے اور جانور اس سے بہت زیادہ سنتے ہیں اور بہت کم بھی سنتے ہیں۔اس لئے اول تو وہ جو آوازیں ہمیں اُن کی آتی ہیں اُن سے زیادہ کچھ باتیں وہ کر رہے ہوتے ہیں جن کا ہمیں پتا ہی نہیں اور مختلف جانوروں کے لئے مختلف سمت میں خدا تعالیٰ نے انسان پر برتری عطا کی ہوئی ہے۔بعض کم Wavelengths کی آواز میں سنتے ہیں بعض زیادہ کی آوازیں سنتے ہیں مگر جو کچھ آوازیں وہ نکالتے ہیں اُن میں بہت کچھ مضامین بھی بیان ہو رہے ہوتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں جب ہم نے بچپن میں پہلی مرتبہ یہ پڑھا کہ حضرت سلیمان کو پرندوں کی اور جانوروں کی زبان سکھائی گئی تھی تو حیرت بھی ہوتی تھی اور ذہن زیادہ اُن پر یوں، جنوں کی کہانیوں