خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 734
خطبات طاہر جلد ۹ 734 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء ایک دم سے جلتے تھے اور ایک دم سے کیوں بجھتے تھے۔اگر مادہ کی تلاش تھی تو عام طور پر جانوروں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ مادہ کے لئے وہ الگ ہو کر باقیوں سے بچ کر ایسے اشارے دیتے ہیں تا کہ دوسرے رقیب نہ اُن تک پہنچ جائیں مگر وہاں یہ نظارہ نہیں تھا۔پس David Attenbrough کی فلم میں جب میں نے دیکھا تو مجھے وہ یاد آ گیا۔یہ ایک طریق ہے تسبیح کا۔خدا تعالیٰ کی تسبیح دنیا میں ہر چیز کر رہی ہے۔کچھ آوازوں کے ذریعے، کچھ روشنی کے ذریعے، کچھ سجدہ ریز ہو کر ، کچھ لہکتے ہوئے۔ہزار ہا مخلوقات کی قسمیں یا ان گنت کہنا چاہئے یا ہزار ہانسیج کی قسمیں یا انگنت کہنا چاہئے دنیا میں موجود ہیں لیکن ہم غافل آنکھوں سے اُن کو دیکھ کر گزر جاتے ہیں اور معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے خالق نے کیسی کیسی حسین چیز یں تخلیق فرمارکھی ہیں۔روشنیوں کے سلسلے میں مجھے یاد ہے وہاں ہی رات کے وقت کشتی میں سفر کا موقع ملا تو ایسی مچھلیاں ہمارے ساتھ ساتھ دوڑتی تھیں جو چاندی کی طرح چمک رہی تھیں اور پہلی مرتبہ مجھے یہ اتفاق ہوا تھا کہ ایسی مچھلی دیکھوں جو چاندی کی طرح چمکتی ہولگتا تھا کہ با قاعدہ چاندی کی بنی ہوئی مچھلیاں ہیں جو کوندے مار رہی ہیں ساتھ ساتھ اور سطح کے قریب آ کر کشتی کی پیروی کرتی ہوئی۔David Attenbrough نے فلم میں نہ صرف فضا میں چمکنے والے حشرات الارض کی تصویریں کھینچی ہیں مختلف قسم کی صرف جگنوؤں کی نہیں بلکہ زمین پر چلنے والوں کی بھی کھینچی ہیں اور سمندر میں ڈوبے ہوؤں کی بھی کھینچی ہیں اور وہ بتاتا ہے کہ نہ جو اس حیرت انگیز جلوہ آرائی سے خالی ہے نہ خشکی پر چلنے والے جانور اس سے خالی ہیں نہ سمندر کے اندر بسنے والے اس سے خالی ہیں۔چنانچہ سمندر میں جب وہ جا کر دکھاتا ہے تو سطح پر یعنی سطح کے قریب رہنے والی مچھلیاں اور اس قسم کے جانوررات کے وقت جب ایک دوسرے سے روشنیوں کے ذریعے باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور بہت ہی خوبصورت نظارے پیدا ہوتے ہیں لیکن سب سے زیادہ حیرت انگیز چیز جو David Attenbrough نے بھی محسوس کی اور ہر دیکھنے والا محسوس کرتا ہے یہ وہ ہے کہ سمندر کی تہہ میں اتنی گہرائی پر جہاں سمندر کے پانی کا بوجھ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ فضا کے اندر جو بوجھ ہے جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں اُس سے پچاس گنا سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔یعنی اتنا بوجھ ہے کہ اگر ایک انسان بغیر کسی مشینی سہارے کے بغیر خاص قسم کے خود پہنے ہوئے نیچے چلا جائے تو اُس