خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 729 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 729

خطبات طاہر جلد ۹ 729 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء شامل ہے۔صرف جانداروں ہی کا ذکر نہیں فرمایا گیا بلکہ ہر وہ چیز جو آسمانوں میں یا زمین میں ظاہر یا مخفی طور پر موجود ہے وہ سب خدا تعالیٰ کی حمد کر رہی ہوتی ہے۔فرمایا لیکن تم اُس کو سمجھتے نہیں ہو۔اس ضمن میں میں چند اور پہلوؤں سے احباب جماعت پر حمد کو سمجھنے کا اور اس کو اپنانے کا طریق پیش کرنا چاہتا ہوں۔پہلا تو یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ آفاق پر غور کرنے سے انسان کو خدا تعالیٰ کی ہستی سے شناسائی ہوتی ہے اور دوسرا طریق یہ ہے کہ اپنے نفس پر غور کرنے سے انسان کو خدا تعالیٰ کی ہستی کی شناسائی ہوتی ہے۔آفاق میں بھی خدا کے نشان ملتے ہیں اور اپنے وجود میں بھی خدا تعالیٰ کے نشان ملتے ہیں۔آفاتی لحاظ سے خدا تعالیٰ کو یاد کرنے کا طریق قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اُس کے زمین و آسمان کی اور جو کچھ اُن دونوں میں ہے اُن کی تخلیق پر غور کریں۔جیسا کہ فرمایا الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ ( آل عمران :۱۹۲) یعنی لِأُولِي الْأَلْبَابِ وہ لوگ جو صاحب عقل ہیں، جو خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں، اپنے پہلوؤں پر کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے ہر حالت میں وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ اور ان کی یاد محض ایک خیالی اور فرضی یاد نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ کی تخلیق پر غور کرنے کے نتیجے میں اُس سے مدد حاصل کر کے ان کی یاد میں بہت گہرائی پیدا ہو جاتی ہے اور غیر معمولی لذت پیدا ہو جاتی ہے۔پس زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرنا اور دن اور رات کے بدلنے پر غور کرنا ذکر الہی کے ساتھ ایک گہرا تعلق رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اگر صاحب عقل ہو ، تم صاحب ہوش ہو تو ہم تمہیں یہ طریق بتاتے ہیں کہ ہمیں یاد کرنے کے لئے ہماری تخلیق پر غور کیا کرو اور جب تم ہماری تخلیق پر غور کرو گے تو ہم سے اس طرح تمہاری شناسائی ہو جائے گی ، ایسا گہراتعلق پیدا ہو جائے گا کہ عاشق کی طرح تم خود بخود ہمیں یاد کرنے لگو گے اور پھر دن رات یاد کرو گے لیٹے ہوئے اپنے پہلوؤں پر اُس وقت بھی ہمیں یاد کرو گے اور اُٹھتے ، چلتے پھرتے ، بیٹھتے گویا کہ ہر حالت میں ہم تمہیں یادر ہیں گے یہ طریق ہمیں سمجھایا گیا اور جہاں غور کرنے کے لئے نصیحت فرمائی وہاں یہ بھی ساتھ بتا دیا کہ تم اکیلے نہیں ہو حد میں۔جن چیزوں پر تم غور کر کے اُن سے مدد لیتے ہوئے ہمیں یاد کرتے ہو، ہر وہ چیز جس پر تم غور کرو گے وہ خود ہماری یاد میں مصروف ہے اور ہماری یاد میں محو ہے اور ہماری تسبیح کر رہی ہے۔یاد کرنے والوں کا یہ مضمون اتنا وسیع ہو جاتا ہے کہ ساری کائنات کا ذرہ ذرہ