خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 728 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 728

خطبات طاہر جلد ۹ 728 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں سات آسمان اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے اور فی الحقیقت کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو خدا تعالیٰ کی تسبیح نہ کر رہی ہو لیکن تم لوگ ان تسبیحوں کو سمجھتے نہیں۔یعنی زندہ چیزیں بھی اور بظاہر مردہ نظر آنے والی چیزیں بھی جو کچھ بھی کائنات میں آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے لیکن تم اُسے سمجھ نہیں سکتے۔إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا۔یقیناً وہ یعنی اللہ تعالیٰ بہت ہی بردباد اور بہت ہی مغفرت کا سلوک فرمانے والا ہے۔وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ اے محمد ! مخاطب کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن مخاطب حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو ہی فرمایا گیا ہے۔کہ اے محمد ! تو جب قرآن کی تلاوت کرتا ہے ہم تیرے درمیان اور اُن لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک ایسا پردہ وارد کر دیتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتا۔یعنی مخفی پردہ ہے۔دیکھنے میں کوئی پردہ نہیں لیکن فی الحقیقت وہ پردہ ہے۔وہ تیرے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوْبِهِمُ اكِنَّةً اَنْ يَفْقَهُوهُ اور ہم اُن کے دلوں پر طرح طرح کے پردے ڈال دیتے ہیں۔چنانچہ وہ اُن پر دوں کی وجہ سے سمجھ نہیں سکتے یا اس غرض سے پردے ڈال دیتے ہیں کہ وہ کچھ سمجھ نہ سکیں اور اُن کے کانوں میں بوجھ ہے۔یعنی اول تو آواز ہی دلوں تک نہیں پہنچتی کیونکہ کان ہی اُس آواز کو رڈ کر دیتے ہیں اور جو آواز دلوں تک پہنچتی ہے، دل پر دوں میں ملفوف ہیں، لیٹے ہوئے ہیں اور ایک نہیں کئی قسم کے پردے ایسے ہیں جنہوں نے دلوں کو حق کی بات سمجھنے سے محروم کر رکھا ہے اور جب بھی تو قرآن کریم میں اپنے رب کو اُس کی توحید کے ساتھ ، ایک خدا کے طور پر پیش کرتا ہے یا اُس کا ذکر کرتا ہے تو یہ لوگ پیٹھ پھیر کر نفرت کے ساتھ منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔گزشتہ خطبے میں میں نے نماز میں لذت پیدا کرنے کا ایک طریق یہ بیان کیا تھا کہ سورہ فاتحہ کے مضمون کو خوب غور سے پڑھیں اور حمد کے لفظ میں ساری لذتوں کی کنجی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی حمد اس طرح کی جائے کہ انسان کا دماغ ان لفظوں کے ساتھ مل جائے ، وابستہ ہو جائے جو سورہ فاتحہ میں ادا کئے جاتے ہیں اور سوچ سوچ کر حمد کو مختلف پہلوؤں سے خدا تعالیٰ کی ذات پر اطلاق کرتا چلا جائے اور اُس کی صفات کو حمد کی روشنی میں سمجھے تو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ مضامین کا ہے جو انسان پر روشن ہوتا چلا جاتا ہے۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ حمد کرنے میں کائنات کی ہر چیز