خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 725 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 725

خطبات طاہر جلد ۹ 725 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء واپس دیتے وقت بھی شکریہ ادا کرے گا لیکن یہ شکریہ بھی ادا ہو سکتا ہے اگر مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ پر نظر ہو جس کو انسان مالک کل سمجھتا ہے اس کا شکر یہ ادا کیا کرتا ہے اور اس کے واپس لینے پر کوئی ناراضگی پیدا نہیں ہو سکتی جتنی دیر اس نے موقع دیا غنیمت ہے اس کا احسان ہے تو مُلِكِ يَوْمِ الدِّین نے اس حمد کا خدا تعالیٰ کی صفات کے ساتھ تعلق خوب کھول کر بیان کر دیا۔یہ مطلع کر دیا کہ اگر خدا کو ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ سمجھو گے تو اس کے ساتھ وابستہ ہر حمد ہمیشہ حمد کی ہی حالت میں دکھائی دے گی۔اگر اس کو ملِكِ يَوْمِ الدِّین نہیں سجھو گے تو بعض موقعوں پر ، حمد کے اہل نہیں رہو گے جب کسی پہلو سے ابتلا پیش آئے گا کوئی چیز تم سے واپس لی جائے گی تم آپ جو مالک بن بیٹھے ہو گے ہمیشہ کے لئے اپنا بنا چکے ہو گے، ہمیشہ کے لئے اس کے ہو چکے ہو گے تو مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ پھر کہاں رہا۔خدا تو اس کی ملکیت سے پھر الگ ہو گیا۔پس سورہ فاتحہ میں انسان کی سوچوں کے جتنے پہلو بھی ہیں ان تمام کی سیرابی کی گئی ہے انسان کی ہر تشنگی کو دور فرمایا گیا ہے ممکن نہیں کہ کوئی انسان سورۃ فاتحہ پر سے غور کرتے ہوئے گزرے اور کسی قسم کے تشنگی باقی رہے یا اکتاہٹ محسوس ہو۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ فرمایا کہ جب یہ کہو کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ تو اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں یہ معنی سامنے رکھ لیا کرو کہ اے خدا تیری عبادت کی نیت تو ہے لیکن کی نہیں جاتی اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مدد بھی تجھ ہی سے مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ مدد فرمائے گا اور پھر آہستہ آہستہ تمہاری عبادت صحیح مقام پر کھڑی اور صحیح قائم ہو جائے گی۔پس یہ مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بہت وسیع ہے اور ایک خطبے میں تو ناممکن ہے کہ اس کا پورا حق ادا کیا جا سکے میں نے کوشش کی ہے کہ مختصراً آپ کو سمجھاؤں کہ عرفان سے نماز میں لذت پیدا ہوتی ہے اور اس کے لئے محنت کرنی پڑے گی۔بات سمجھنے کے باوجود اچانک آپ کی نماز زندہ نہیں ہوسکتی جن دانوں میں رس نہ رہا ہو اور وہ اگر زندہ ہیں اور درخت سے تعلق رکھتے ہیں تو معاً علاج کے بعد ان میں رس نہیں بھرا جا سکتا وقت لگتا ہے اور محنت کرنی پڑتی ہے پس اللہ تعالیٰ نے انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ: يَا يُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحُ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلقِيه (الانشقاق : ۷ ) کہ اے انسان! تو خدا کی طرف محنت کر رہا ہے یعنی وہ انسان مخاطب ہے جو