خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 724 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 724

خطبات طاہر جلد ۹ 724 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء ہوتا ہے جس کے بعد انسان بے اختیار کہتا ہے الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ پھر روز مرہ کے انسان تجارب ہیں ، خوشیاں ہیں، غم ہیں، خوف ہیں ان کے نتیجے میں روزانہ نماز کے یہ سات لفظ جو میں نے بیان کئے ہیں یہ نئے نئے مضامین سے بھرے جا سکتے ہیں۔ایک شخص کا ایک بچہ فوت ہو جاتا ہے اور کوئی صدمہ پہنچتا ہے اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب ہم کس طرح سچے دل سے حمد کریں یہ کہنے والے صرف اس لئے کہتے ہیں کہ ان کے دماغ میں حمد اور شکر ایک ہی مضمون کے دو نام بن چکے ہوتے ہیں اور اکثر لوگ حمد صرف شکر کے معنوں میں کہتے ہیں ان کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ حمد ہے کیا تو کہتے ہیں اب تو ہمارا نقصان ہو گیا ہے اب تو ہم صدمے کی حالت میں ہیں یا خوف کی حالت میں ہیں ہم کیسے حمد کر سکتے ہیں لیکن وہی وقت حمد کرنے کا ہوتا ہے۔کیونکہ ایک محمود چیز ان کے ہاتھوں سے چلی گئی ہوتی ہے ایک ایسی چیز ان کی روح سے کھوئی جاتی ہے جس کے ساتھ ان کی کوئی حمد وابستہ ہے اور وہ وقت ہوتا ہے یہ یاد کرنے کا کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ حمد تو اصل میں خدا کی ہے خدا نے یہ حد تھوڑی سی بخشی تھی عارضی طور پر وہ قابل ستائش تھا لیکن جس نے حمد عطا کی تھی وہ میرا ہے اور ہمیشہ میرے ساتھ رہنے والا ہے وہ کبھی مجھے چھوڑنے والا نہیں پس نقصان سے کچھ صدمہ تو ضرور ہوتا ہے لیکن اگر صدمہ کو انسان عارضی سمجھ لے یعنی حقیقت میں عرفان کی روح سے تو وہ صدمہ عارضی بن جاتا ہے اور اگر اس کی حمد ہمیشہ کے لئے اس سے وابستہ ہوچکی ہو اور خدا کے علاوہ ایک باطل بت کے طور پر ایک شخص سے پیار کرنے لگے تو اس کا نقصان بھی ہمیشہ رہے گا اور اس سے پتا چلے گا کہ اس نے خدا کے علاوہ کسی اور شخص سے دائمی حمد منسوب کر دی تھی۔پس دیکھیں کہ ایسے صدمے کے بعد اس کی پہلی نماز کی پہلی رکعت بے اختیار اس کی توجہ اس کی طرف مبذول کرا دیتی ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ روز تمہیں یہ سبق دیا گیا، روز تم نے غور سے پڑھا، جانتے ہو اچھا بھلا کہ خدا کے سوا کسی کی کوئی حد نہیں ہے تو اگر یہ چیز ضائع ہوئی تو خدا ہی نے تو حمد عطا کی تھی اس لئے اگر کوئی حمد عطا کرنے والا اپنی چیز واپس لیتا ہے تو واپس کرتے وقت بھی شکریہ ادا کیا جاتا ہے شکوہ کا وقت نہیں ہوا کرتا۔آپ نے کسی کو کوئی چیز استعمال کے لئے دی ہو اور جب آپ واپس لیں تو وہ آگے سے گالیاں دینے لگ جائے یہ چیز ابھی تو تم نے دی تھی اب واپس لے کر جا رہے ہو تو آپ کا اس کے متعلق کیا تاثر ہوگا لیکن اگر وہ شریف النفس ہوگا تو وہ