خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 720
خطبات طاہر جلد ۹ 720 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء نہیں۔یہ اس بات کا ایک طبعی منطقی نتیجہ ہے۔آپ جب خدا سے یہ عرض کرتے ہیں کہ صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں تو جواب میں یہ مل سکتا ہے کہ تو فلاں کا بھی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ، فلاں کا بھی کھٹکھٹاتا ہے۔تیرے نزدیک فلاں شخص اتنی عظمت رکھتا ہے کہ جب سچ اور جھوٹ کا سوال ہو تو اس کی عظمت کے سامنے تو سچ کو قربان کرتے ہوئے بھی جھک جاتا ہے تیرے ذہن میں فلاں چیز کی اتنی طاقت ہے کہ اس سے مدد مانگنے کی خاطر تو ہر اس فعل پر آمادہ جاتا ہے جس کو خدا نے منع کیا ہوا ہے غرضیکہ ایک بہت ہی تفصیلی مضمون ہے اور روز مرہ کی زندگی میں جب ہم اپنی ذات پر اور اپنے گردو پیش پر چسپاں کرتے ہیں تو آدمی اگر صاحب ہوش ہو تو اس کے ہوش اڑ جائیں۔ساری عمر عبادتوں میں اگر وہ مغز ڈھونڈ نے لگے تو اتنا تھوڑا ملے گا جیسے جلے ہوئے گھر سے انسان اپنی کوئی چھوٹی سی چیز تلاش کر رہا ہو۔پس جو عبادتیں خالی ہوں گی وہ کیا مانگیں گی؟ کیونکہ ہر مانگنے کے جواب میں، ہر سوال کے جواب میں خدا کی تقدیر اسے یہ کہ رہی ہوگی کہ نہ نہ تم ایسی باتیں نہ کرو، تکلف نہ کرو تم دوسروں کی عبادت کیا کرتے تھے خواہ ظاہری طور پر نہ سہی لیکن جب مدد مانگنے کا وقت آتا تھا تو کسی اور کو طاقتور سمجھتے تھے اور اس کا دروازہ کھٹکھٹایا کرتے تھے اس لئے بے تکلفی سے صاف حق کا اقرار کر لو۔بات یہ ہے کہ تم میرے دروازے کھٹکھٹانے کے اہل ہی نہیں ہو۔جس کی حد تمھارے دل میں ہے۔جس کی حقیقی عبادت کرتے ہو اسی سے مانگو اگر وہ تمہیں کچھ دے سکتا ہے۔پس یہ جو فرق ہے بعض دعائیں قبول ہوتی ہیں اور بعض نہیں۔آنسو فرق نہیں پیدا کیا کرتے۔بعض لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ ہمیں عبادت میں کس طرح مزا آئے ہم تو روتے روتے سجدہ گاہوں کو تر کر دیتے ہیں مگر ہماری مطلوبہ چیز ہمیں نہیں مل رہی۔ان کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ جس چیز کو وہ خدا بنا بیٹھے ہوں پھر اس سے اس کا وجود مانگیں کیونکہ جب وہ اتنی زیادہ پیاری لگنے لگ گئی ہو کہ وہی قبلہ بن چکی ہو اور خدا کی طرف حمد صرف لفظوں سے منسوب کی جا رہی ہو اور فی الحقیقت خدا کی کائنات میں دوسری مختلف چیزیں انسان کی نظر میں محمود بن گئی ہوں ، قابل حمد بن گئی ہوں تو جب وہ خدا کے حضور روتا ہے تو حمد کی وجہ سے نہیں روتا۔وہ اس وجہ سے روتا ہے کہ اس کی طلب پوری نہیں ہورہی۔بیمار جب چھینیں مارتا ہے تو کسی تکلیف کی وجہ سے چیچنیں مارتا ہے۔ضروری نہیں کہ اس کی چیخوں سے اس کا علاج ہو جائے علاج تو علاج کے علم کے ساتھ ہوتا ہے۔