خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 719
خطبات طاہر جلد ۹ 719 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء ہیں کہ اے خدا! ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ہر شخص کی نیت یہی ہوگی اس سے تو کوئی انکار نہیں ہو سکتا یعنی انکار کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں لیکن یہ قطعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ کلیہ اس مومن کا حق حضرت محمد ﷺ نے ادا فرمایا اور پھر وہی ادا کر سکتا ہے جو آپ کا کامل غلام ہو۔اب جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ خدا کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتا یعنی دعا کرنے والا قطعی طور پر خدا ہی کی عبادت کرتا ہے اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مدداسی سے مانگے گا اور کوئی مدد کے لئے رہا ہی نہیں کیونکہ جب معبود اٹھ گئے تو معبود تو ہوتے ہی وہ ہیں جن کے سامنے انسان اپنی ساری ہستی جھکا دیتا ہے اور اس سے بڑا اور کسی کو نہیں دیکھتا۔اس کے بعد اور کون سا دروازہ رہ جاتا ہے جس کو کھٹکھٹانے کیلئے وہ اپنی ضروریات کی خاطر جائے گا۔پس اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کا مضمون إِيَّاكَ نَعْبُدُ سے از خود پیدا ہوتا ہے اور اتنا ہی پیدا ہوتا ہے جتنا ايَّاكَ نَعْبُدُ میں سچائی پائی جاتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔پس اگر کسی کی عبادتیں حمد سے خالی ہوں اور حمد غیروں کے لئے ہو خواہ بظاہر اس کی عبادت کرے یا نہ کرے تو اس کی حمد سکڑ کر چھوٹی سی رہ جاتی ہے۔کہتا تو یہی ہے کہ اے خدا!! میں صرف تیری عبادت کرتا ہوں مگر جو موحد ہو اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اے خدا! میری نیت یہی ہے کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کروں لیکن اس کی حمد چونکہ دنیا میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے اور لوگ خود قبلہ بن چکے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ قبلہ نما ہوں۔اس پہلو سے اس کی عبادت جتنا حمد سے خالی ہوتی ہے اتناہی سکڑ کر اس طرح بن جاتی ہے جیسے کوئی فالج زدہ جسم ہو۔ہاتھ سکڑ کر پہلو کے ساتھ بغیر طاقت کے لٹک جاتا ہے۔ہاتھ تو رہتا ہے۔اس طرح عبادت کی ظاہری شکل تو رہے گی لیکن چونکہ حمد سے خالی ہوگی اس لئے وہ جان سے خالی ہوگئی وہ زندگی سے خالی ہوگی ، غور سے خالی ہوگی ،وہ طاقت سے خالی ہوگی، وہ اثر سے خالی ہو گی اور اسی نسبت سے إيَّاكَ نَسْتَحِینُ میں کمزوری آجائے گی۔خدا کی تقدیر اندھی تو نہیں ہے،خدا کی تقدیر تو اتنی صاحب بصیرت ہے کہ ان باریک ترین چیزوں کو بھی دیکھتی ہے جن پر انسان کی نظر پڑ ہی نہیں سکتی۔اللہ کی تقدیر از خود اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا جواب بنتی ہے لیکن یہ دیکھ کر کہ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں کتنی استطاعت ہے۔مانگنے کی استطاعت دیکھی جاتی ہے ظرف کے مطابق دیا جاتا ہے۔پس ایسا شخص جس کی عبادت چھوٹی سی رہ گئی ہو اس کی استعانت کا جواب بھی اتنا ہی ملے گا اور اس میں کوئی ظلم