خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 712 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 712

خطبات طاہر جلد ۹ 712 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء سورۃ فاتحہ میں درحقیقت تمام سوالات کا حل ہے اور کوئی بھی ایسی مشکل نہیں جسے یہ کشانہ کر دے اسی لئے اس کا نام فاتحہ رکھا گیا یعنی ہر چیز کو کھولنے والی چابی۔اگر آپ اس سورۃ پر غور کریں تو کوئی دنیا کا ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کی کنجی اس میں آپ نہیں پائیں گے۔مختصر تعارف اس کا یہ ہے کہ اسے ام الکتاب بھی کہا گیا ہے یعنی قرآن کریم کی ماں ہے اور اور بھی بہت سے اس کے نام ہیں۔اس کی سات آیات ہیں اور سات ہی مضامین پر اس میں بحث کی گئی ہے اور ہر انسان اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں اس کو ادا کرتا ہے۔یہ وہ سورۃ ہے جو ہر مسئلے کا حل اپنے اندر رکھتی ہے خود اس کے متعلق بھی سوال اُٹھتے ہیں اور اٹھائے جاتے ہیں کہ ایک ہی سورۃ ہم مسلسل پڑھتے چلے جائیں تو آپ خود ہی کہیں کہ کیا بوریت نہیں ہو گی؟ ایک ہی جیسے الفاظ عیسائی تو ہفتے میں ایک دفعہ یعنی اتوار کے دن جا کر کچھ سنتے یا کوئی باتیں دہراتے ہیں لیکن مسلمان ہر روز ہر نماز میں جو پانچ دفعہ پڑھی جاتی ہے اور اس کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کا اعادہ ضرور کرتا ہے اور اس کو تکرار سے پڑھتا چلا جاتا ہے۔ایک ہی کھانا اگر روز کھایا جائے تو انسان تنگ آجاتا ہے۔دیکھئے یہود اسی وجہ سے کتنی بڑی ٹھو کر کھا گئے تھے کہ کھلم کھلا خدا کی نعمت کے خلاف بغاوت کی کہ ہم ایک نعمت پر ہمیشہ کے لئے راضی نہیں رہ سکتے۔ہمیں تو مختلف قسم کے کھانے دیئے جائیں۔کون انسان ایک کھانا روزانہ کھائے۔اس مصیبت سے تو مذہب سے دور بیٹھنا ہی بہتر ہے۔جب تحریک جدید کا آغاز ہوا تو احمدیوں کے لئے بھی کچھ اسی قسم کا ابتلاء آیا تھا۔غرباء تو ایک کھانے پر راضی ہوتے ہی ہیں لیکن تحریک جدید نے جب ایک کھانا کہا تو امراء کو بھی اس کا پابند کر دیا۔لیکن اس میں اور یہود کے ابتلاء میں ایک بہت بڑا فرق تھا یہود کا ابتلاء یہ تھا کہ ایک کھانا اور روزانہ ایک ہی کھانا قسم میں بھی تبدیلی نہیں ہوگی لیکن تحریک جدید کے پروگرام میں تو روازنہ آپ صبح سے شام ، شام سے صبح قسمیں تبدیل کر سکتے تھے۔تو بہت بڑے ابتلاء میں ڈالے گئے تھے اور آخر ایک بڑا حصہ اس میں ناکام رہا مگر بعید نہیں کہ اس میں بھی وہی مضمون ہو جو سورۃ فاتحہ سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی ظاہری طور ہر ایک کھانا بھی ان کو دیا گیا ہوگا۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ روحانی غذا کا زیادہ ذکر ہے۔کوئی ایسی روحانی غذا ان پر لازم کی گئی ہے جسے انہیں ہمیشہ با قاعدہ تکرار کے ساتھ دہراتے چلے جانا تھا اور جس سے چمٹے رہنا تھا۔پس ظاہری طور پر بھی ایک کھانا اور روحانی لحاظ سے بھی ایک کھانا یہ تو دہرے ابتلا میں مبتلا ہو گئے۔قرآن مجید نے جب سورۃ فاتحہ کو ام الکتاب