خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 706 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 706

خطبات طاہر جلد ۹ 706 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء سے خدا تعالیٰ کی رسی کو تھاما ہوا تھا؟ اور جمیعا وہ سب اجتماعی طور پر اس رسی سے چمٹے ہوئے تھے۔پس یہ آیت محض ایک نظریاتی فلسفہ پیش نہیں کر رہی بلکہ دنیا کی گہری حقیقتوں سے ہمیں آشنا کر رہی ہے یہ ایسی ٹھوس حقیقتیں ہیں جن سے انسان نظر بچا کر نکل نہیں سکتا ایسی حقیقتیں ہیں جو قو موں کو گھیر لیتیں ہیں اور خواہ آپ ان کو نظر انداز کریں ان کے نتائج سے آپ بچ نہیں سکتے۔پس قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ کا حق اختیار کرو یعنی تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ کا حق ادا کرو اور ہرگز نہ مروجب تک مسلمان نہ ہو، مسلمانوں پر لازم کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اکٹھے ہو کر ایک جان ہو کر خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اس سے اس طرح چھٹے رہیں کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ان کا ہاتھ خدا کی رسی سے جدا نہ ہو اور ایک دوسرے سے بھی جدا نہ ہو یعنی ایک طرف خدا کی ریتی کو تھاما ہوا ہو اور دوسری طرف وہ سب اکٹھے ہوں اور مل کر ایک ہی رسی کو پکڑا ہو۔یہ امت مسلمہ کی وحدانیت کا وہ منظر ہے جو قرآن کریم کی ان آیات نے تفصیل سے کھول کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمان جو قرآن کریم کو پڑھتے بھی ہیں تو مضامین پر گہرا غور نہیں کرتے۔اکثر تو ایسے ہیں جو نہ تو پڑھنے کے اہل رہے نہ غور کرنے کے مگر ان کے راہنما قرآن کریم کی آیات پڑھ کر ان کو اکٹھا کرنے کی بجائے ان کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یعنی ظلم کی حد ہے کہ قرآن کریم تو اللہ کی رسی کی یہ تعریف فرمارہا ہے کہ اس کو پکڑو اور اجتماعی طور پر پکڑو اور تم یقیناً آگ کے عذاب سے بچائے جاؤ گے۔اگر تم لڑائی کے لئے تیار بھی بیٹھے ہو گے۔ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے کے لئے مستعد ہو گے تو اللہ تعالیٰ اس رسی کی برکت سے تمہیں ایک دوسرے سے دور ہٹا دے گا یعنی دشمنی کی حالت سے دور ہٹا دے گا اور پھر محبت کی حالت میں قریب کرے گا اور اتنا قریب کر دے گا کہ تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن جاؤ گے۔کتنا حسین منظر ہے جو تقویٰ کے نتیجے میں پیدا کر کے دکھایا گیا ہے اور اس کے برعکس آج مسلمان علماء قرآن کے حوالے دے دے کر منہ سے جھا گئیں اڑاتے ہوئے ایک دوسرے سے نفرت کی تعلیم دیتے ہیں۔پہلے ۸ سال تک دنیا نے یہ تماشا دیکھا کہ ایران قرآن کے حوالے سے عراقیوں کے قتل کی تعلیم دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ یہ کافر ہیں ان کو ماروان کو قتل کرو اور تم غازی بنو گے اور اگر تم ان کے ہاتھ سے مارے گئے تو تم شہید ہو گے اور عراقی علماء اسی زور اور شدت کے ساتھ اہل عراق کو یہ خوشخبری سنا