خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 705 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 705

خطبات طاہر جلد ۹ 705 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء ایک ایسے گڑھے کے کنارے پر کھڑے ہوئے تھے جو آگ سے بھرا ہوا تھا فَانْقَذَكُمْ مِنْهَا پس یہ اللہ تھا جس نے تمہیں اس گڑھے سے بچالیا۔اس کنارے کی حالت سے ہٹا کر تمہیں دور لے گیا۔كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تم پر کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔تا کہ تم ہدایت پاؤ۔اب اس دوسرے حصے میں یہ مضمون بیان فرمایا کہ تفرقہ لازماً آگ تک پہنچاتا ہے۔آگ سے مراد لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ جہنم کی آگ مراد ہے مگر قرآن کریم کے محاورے سے ثابت ہے کہ آگ سے مراد خوفناک لڑائیاں بھی ہیں اور صرف مرنے کے بعد آگ مراد نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں بھی جو مختلف جگہوں پر ہم ہر وقت قوموں کو آپس میں لڑتا دیکھتے ہیں یا ہر وقت نہیں تو کبھی کبھی لڑتا دیکھتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ تفرقہ ہے۔اور جب تفرقہ شدت اختیار کر جائے تو ایسی قو میں لازماً پھر لڑائی کی آگ میں جھونکی جاتی ہیں ، حرب کی آگ میں جھونکی جاتی ہیں۔یہ ایک مزید کسوٹی اپنی حالت کو پہچاننے کے لئے پیش کر دی۔فرمایا کہ اگر تم واقعی مسلمان ہو۔اگر تم واقعی اللہ کی اطاعت میں داخل ہو اور حبل اللہ کو تھامے ہوئے ہو تو یہ ناممکن ہے کہ تم آپس میں لڑ پڑو۔یہ ناممکن ہے کہ تم آگ کی بھٹی میں جھونکے جاؤ یعنی لڑائی کی بھٹی میں جھونکے جاؤ۔اللہ نے تمہیں اس آگ سے دور کر دیا یعنی حبل اللہ کے نتیجے میں تم اس کنارے سے دور لے جائے گئے اور جب تک تم اس کنارے پر کھڑے تھے تیز ہوا کا کوئی جھونکا بھی تمہیں اس میں دھکیل سکتا تھا، کوئی شدید دشمن تمہیں دھکا دے کر اس میں دھکیل سکتا تھا، کوئی شدید دشمن تمہیں دھکا دے کر اس میں گرا سکتا تھا لیکن جو کناروں سے ہٹ جائیں گے ان کو ایک جھونکا یا ایک، دو چار دھکے تو اس آگ کے گڑھے میں نہیں گرا سکتے اور پھر حبل اللہ کو جس نے مضبوطی سے تھاما ہوا ہو وہ تو اتنی دور آگ کے کناروں سے نکل جاتا ہے کہ کوئی دنیا کی طاقت اس کو آگ میں نہیں دھکیل سکتی۔سے دور اس مضمون کو سمجھنے کے بعد آپ اس زمانے میں آج بدنصیبی سے مسلمانوں کی جو حالت ہے اس کی طرف واپس آئیں۔ایران اور عراق میں جو جنگ ہوئی ہے ۸ سال تک مسلمان ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے۔کیا اس آیت کریمہ کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ آگ کے کنارے پر نہیں کھڑے تھے ؟ کیا اس آیت کریمہ کی روشنی میں کوئی انسان یہ کہ سکتا ہے کہ انہوں نے مضبوطی