خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 702
خطبات طاہر جلد ۹ 702 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء یہاں’حبل الله “ سے اور ”حبل الناس“ سے بلحاظ معنی ایک ہی مراد ہے کیونکہ دونوں کے ساتھ حبل کا لفظ استعمال ہوا ہے اور تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہاں حبل سے مراد عہد ہے۔یعنی خدا کا عہد جو بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔اس عہد کے نتیجے میں بعض دفعہ تو میں ذلت سے بچائی جاتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ان سے عہد ہے کہ اس حالت میں میں تمہیں ایک خاص تکلیف سے بچاؤں گا۔جو بھی عہد کی نوعیت ہو اس کے نتیجے میں خدا کا عہد ان کو پہنچتا اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔اسی طرح قوموں کے عہد ہیں۔ایک قوم کا دوسری قوم سے معاہدہ ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی دشمن ہم پر حملہ کرے تو تم ہمارے دفاع کے لئے چلے آنا تو اس معاہدے کی رو سے پھر بعض دفعہ انسان بعض قسم کے شر سے بچائے جاتے ہیں تو حبل کا بنیادی معنی عہد ہوا۔دوسرا حبل کا لفظ " حبل الورید " کے محاورے کے طور پر ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے۔حبل الورید " شہ رگ کو کہتے ہیں۔یہ وہ رسی ہے جو دل اور دماغ کا تعلق سارے بدن سے ملاتی ہے اور اگر یہ رسی کٹ جائے تو دل اور دماغ دونوں کا تعلق بدن سے کٹ جاتا ہے اور اس کا دوسرا نام موت ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا کی آیت میں یہ وہ جگہ یعنی وہ آیت ہے جس کا مضمون میں نے بیان کیا ہے ، یہ وہ جگہ ہے جہاں حبل کا لفظ درحقیقت ان دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو استوار رکھو جو تمہاری زندگی کی ضمانت ہے اگر تمھارے ان تعلقات پر ضرب پڑ گئی یا وہ منقطع ہو گئے تو اسی حد تک تم زندگی سے محروم ہو جاؤ گے۔حبل کا دوسرا معنی بھی یہاں صادق آتا ہے اور پہلے معنی کی مزید تشریح کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ در حقیقت قرآن کریم نے تمام مومنوں کو ایک معاہدے کی رو سے اپنے انبیاء اور شریعتوں سے باندھ دیا ہے اور یہ عہد اللہ تعالیٰ کا آغاز انسانیت سے لے کر آج تک ہمیشہ قوموں سے لیا جاتا ہے۔پس ہر صاحب شریعت نبی اور اس کی شریعت عملاً حبل اللہ بن جاتے ہیں کیونکہ خدا کے ساتھ کئے جانے والے عہد کے ذریعے وہ ان دونوں سے باندھے جاتے ہیں۔شریعت کی اطاعت اور صاحب شریعت نبی کی اطاعت یہ ضروری ہو جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر حبل اللہ کا یہی معنی ہے تو ایک دفعہ ایک صاحب شریعت نبی آ گیا اور شریعت پیش کر کے چلا گیا تو کیا ہر انسان یہ نہیں کہہ