خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 701
خطبات طاہر جلد ۹ 701 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء پس تقویٰ کا معنی یہ ہے اور تقویٰ کا حق ادا کرنے کا معنیٰ یہ ہے کہ زندگی کی ہر وہ حالت جس میں آپ کے اوپر کسی قسم کے عوامل کارفرما ہوں آپ کی عام حالت میں تبدیلی پیدا کرنے والے کوئی بیرونی محرکات ہوں اس وقت اپنے رد عمل کو اس طرح دیکھو کہ جیسے تمہارے علاوہ خدا بھی اس کو دیکھ رہا ہو اور اگر ان معنوں میں خدا کے سامنے رہو تو یہ تقویٰ کی حالت ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے یعنی علمی دنیا میں ہر وقت خدا کے حضور سر بسجو درہنا اور اس کی اطاعت کے اندر رہنا اس کی فرمانبرداری اور سپردگی میں رہنا۔پس یہ چھوٹی سی آیت دو سوال اٹھاتی ہے اور یہ آیت انہی دونوں سوالات کا جواب خود دیتی ہے لیکن اس کی مزید تفصیل اس کے بعد آنے والی آیت پیش فرماتی ہے اور اسلام کی ایک اور تصویر ایسی کھینچتی ہے جس کی طرف از خود محض اس آیت سے توجہ مبذول نہیں ہوتی وہ مضمون جب تک کھولا نہ جائے انسان پر از خود کھل نہیں سکتا۔چنانچہ فرمایا: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا اگرتم تقویٰ کا حق ادا کرنے والے ہوا اگر تم اس کے نتیجے میں یہ تسلی پا جاتے ہو کہ تم اس حالت میں جان دو گے جو سپردگی کی حالت ہے تو پھر جو کسوٹی ہم تمہارے سامنے رکھتے ہیں اس پر اپنے آپ کو پر کھ کر دیکھو اور اسلام کے جو حقیقی اور بنیادی معنی ہیں وہ ہم تم پر کھولتے ہیں اور یہ دیکھو کہ تم ان معنی سے انحراف تو نہیں کر جاتے۔فرمایا وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا حقیقی اسلام یہ ہے کہ اللہ کی رسی کو پکڑے رکھو اور یہ اطاعت کی حالت ہے مگر جَمِیعاً اجتماعی طور پر انفرادی طور پر نہیں۔پس ایک اور مضمون بیان ہوا ہے جو پہلے مضمون کے تسلسل میں ہی اس کا اگلا قدم ہے۔بِحَبْلِ اللہ کس کو کہتے ہیں؟ پہلے اس مضمون پر میں کچھ بیان کر دوں پھر اس مضمون پر کچھ مزید روشنی ڈالوں گا۔قرآن کریم کی روح سے حبل اللہ کا ترجمہ کرتے ہوئے دو ایسی آیات ذہن میں ابھرتی ہیں جہاں حبل کا لفظ بیان ہوا ہے ایک تو آیت وہ ہے جہاں فرمایا: ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا تُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ ( آل عمران : ۱۱۳) کہ وہ لوگ ہیں جن پر ذلت مسلط کر دی گئی ہے۔آینَ مَا تُقِفُوا جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں گے وہ ذلت اور رسوائی اور نکبت کی حالت میں پائے جائیں گے۔إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللهِ سوائے اس کے کہ اللہ کی حبل ان کو اس ذلت سے مستثنیٰ کرنے والی ہو اور لوگوں کی حبل ان کو اس ذلت سے مستثنیٰ کرنے والی ہو۔وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ ذلت سے ان کی اس حصے میں حفاظت کرنے والی ہو۔