خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 700 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 700

خطبات طاہر جلد ۹ 700 ہے سوائے ایسے آدمی کے جو تقویٰ کا حق ادا کرنے والا ہو۔خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء ایک خوشخبری آپ سنتے ہیں اس پر بھی جو رد عمل ہوتا ہے وہ بھی ویسی ہی صورت اختیار کرتا ہے۔بعض لوگ خوشخبری سن کر اچھلنے لگ جاتے ہیں بیہودہ ، لغوحرکتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔شیخیاں بگھارنے لگتے ہیں، بغلیں بجاتے ہیں۔عجیب عجیب پاگلوں والی حرکتیں کرتے ہیں۔خوشی کی کوئی خبر سنیں یا خوشی کا کوئی موقعہ دیکھیں کسی پر فتح حاصل کریں یا اچانک کوئی بڑا منافع حاصل ہو ، ہرایسی حالت میں انسان اپنے رد عمل میں حد سے تجاوز کرنے والا ہوتا ہے اور وہ اس کی اسلام کی حالت نہیں رہتی۔غم کی خبر دیکھیں تو بالکل نڈھال ہو کر اس غم کے اثر کے نیچے دب جاتے ہیں۔خوف کی خبر سنیں تو خوف سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم کافروں کی حالت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لَفَرِحُ فَخُورٌ (ھود:1) وہ چھوٹی سی بات پر نہایت خوش ہو جانے والے اور معمولی سے حاصل کے نتیجے میں بے حد فخر کرنے لگتے ہیں۔اچھلتے ہیں اور اپنی بڑائی بیان کرتے ہیں تو در حقیقت ہر روز ہر لمحہ جب بھی ہم پر بیرونی عوامل اثر انداز ہوں وہ وقت ہے تقویٰ کا حق ادا کرنے کا اور اس وقت انسان اکثر بے خبری کی حالت میں ہوتا ہے اور کبھی بیدار مغزی کے ساتھ اپنے نفس پر غور نہیں کرتا تا کہ مجھ سے جو سلوک کیا گیا ہے یا جو کچھ مجھے اطلاع ملی ہے یا جو تبدیلی میرے حالات میں پیدا ہوئی ہے اس کے نتیجے میں میں اگر خدا کی نظر میں رہنے والا انسان ہوں یا یہ معلوم ہو کہ کون مجھے دیکھ رہا ہے تو میں کیا رد عمل دکھاؤں گا ؟ خدا کی نظر میں رہنے والا انسان ہمیشہ معتدل ہوتا ہے۔اس کا رد عمل کبھی بھی حد سے تجاوز نہیں کرتا اگر ایک ایسے انسان کی موجودگی میں جس کا آپ پر رعب ہو، جس کی ہیبت آپ کے دل پر طاری ہو کوئی شخص آپ کی بے عزتی کرے تو آپ ہرگز اس طرح اس کو گندی گالیاں نہیں دیں گے جس طرح علیحدگی میں بے عزتی کرنے پر دیں گے۔اس وقت آپ کو کوئی نقصان پہنچائے تو بڑا دبا دبا اور گھٹا گھٹا ردعمل دکھائیں گے ورنہ اس کی بھی بے عزتی ہوتی ہے جس کی موجودگی میں آپ حد سے تجاوز کرتے ہیں۔ماں باپ کی موجودگی میں بچوں کا رد عمل اور ہوتا ہے۔ماں باپ سے علیحدگی میں اور ردعمل ہوتا ہے۔ایک صاحب جبروت بادشاہ کے حضور درباریوں کے ساتھ اگر کوئی حرکت ہو تو انکار و عمل بالکل اور ہوگا اور گلیوں میں، بازاروں میں چلتے ہوئے انہیں درباریوں سے اگر کوئی بدسلوکی کرے تو ان کا رد عمل باکل اور ہو گا۔