خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 694 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 694

خطبات طاہر جلد ۹ 694 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء (Justice۔J۔Dechene) ان کی انصاف کی نقطہ نگاہ سے بڑی شہرت ہے۔ہمارے پاکستان میں ہمارے پارسی ایک جسٹس تھے جسٹس دراب پٹیل صاحب، جنہوں نے اِس وجہ سے استعفی دے دیا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ فوجی انقلاب کے نتیجے میں جو کاروائیاں کی جا رہی ہیں ان کے لئے کوئی منصفانہ بنیاد نہیں ہے۔چنانچہ ان کا انصاف کے نقطہ نگاہ سے ایک تقویٰ کا مقام ہے۔تقویٰ ایک بہت بڑا وسیع لفظ ہے غیر مذہبی اقدار پر بھی تقویٰ کا لفظ صادق آتا ہے کیونکہ اخلاق حسنہ فی الحقیقت اپنی آخری شکل میں خدا ہی سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔پس جو جسٹس، جو منصف، اپنے انصاف میں جن دوسری اغراض اور اثرات سے بالا ہو جائے اس کو انصاف کے لحاظ سے ہم متقی کہہ سکتے ہیں۔پس ایسے متقی جسٹس آپ کو پاکستان میں بھی ملیں گے، ہندوستان میں بھی ملیں گے، پین میں بھی ملیں گے۔میں جب پرتگال گیا تھا تو وہاں ایک سابق جسٹس سے میری ملاقات ہوئی جن کو پرتگال کی حکومت اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تھی کیونکہ یونائیڈ نیشنز نے بین الاقوامی معاملات میں جہاں نا انصافی ہورہی ہے ان پر غور کرنے کا کام ان کے سپر کیا تھا اور ان کے بعض فیصلے پرتگال کے خلاف تھے۔وہ پرتگالی تھے۔ان سے میں جب ملا تو انہوں نے ہنس کر کہا کہ تم اپنے مظالم کے قصے، ناانصافیوں کے قصے بتا رہے ہو، میں تو آواز اٹھاؤں گا۔لیکن کیا آواز ، کن کانوں میں پڑنے کے لئے اٹھاؤں گا۔کیونکہ جس ملک میں میں بس رہا ہوں جہاں ساری عمر میں نے عدالت کی ہے۔یہ خود اس معاملے میں مجھ سے ہی انصاف نہیں کر رہے اور دنیا کی ساری قومیں نا انصافی پر مبنی ہیں۔دوستانہ ماحول میں بڑی لمبی گفتگو ہوئی ، بہت معمر بزرگ ہیں۔انسانی قدروں کے لحاظ سے لوگ ان کی عزت کرتے ہیں۔لیکن سیاسی نقطہ نگاہ سے ان کو ایک طرف پھینکا گیا ہے تو دنیا میں شریف النفس انصاف پر قائم عالمی شہرت رکھنے والے ایسے سابق جسٹس مہیا ہو سکتے ہیں یا دوسرے بعض سیاستدان ، اتفاق سے ایسے بھی پیدا ہو جاتے ہیں جن کی انصاف کے لحاظ سے شہرت ہو جاتی ہے۔ان کو چن کر ، نہ کہ جتھہ بندی کے نتیجے میں لوگوں کو چنا جائے۔پس انصاف کے نقطہ نگاہ سے اگر ایسے لوگوں کو چن کر عالمی خطرات کو مختلف قسموں میں بانٹ کر مختلف کمیٹیاں بنائی جائیں اور یہ فیصلہ ہو کہ ان خطرات کو ہمیشہ کے لئے مٹانے کے لئے بنیادی جھگڑوں کی وجوہ پر غور ضروری ہے اور قوموں کی تعلیم تربیت ضروری ہے زیادہ سے زیادہ ہمیں یہ کوشش