خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 693
خطبات طاہر جلد ۹ 693 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء اور کمزوری کا تعلق ضرور ہے۔پس یہاں اگر خوباں سے چھیڑ چلے گی تو حسرت ہمیشہ کمزور کے حصے میں آئے گی۔حسرت کبھی محبوب کے حصہ میں نہیں آیا کرتی حسرت ہمیشہ محبت کرنے والے کے حصہ میں آیا کرتی ہے۔پس بہت سی حسرتیں ایسی ہیں جو ہم کمزور، غریب قوموں کے حصے میں آنے والی ہیں اور چھیڑ خانی سے ان لوگوں نے باز نہیں آنا۔اس لئے جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم سے دنیا کی سیاست کو روشناس کرائے اور جس ملک میں بھی احمدی بستے ہیں وہ ایک جہاد شروع کر دیں۔ان کو بتائیں کہ تمہارا آخری تجزیہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تمہارے ہر قسم کے خطرات کی بنیاد خود غرضی اور نا انصافی پر ہے۔دنیا کی قوموں کے درمیان جو چاہیں نئے معاہدات کر لیں جس قسم کے نئے نقشے بنانا چاہتے ہیں بنائیں اور ان کو ابھاریں لیکن جب تک اسلامی عدل کی طرف واپس نہیں آئیں گے (واپس کیا ؟ وہ چلے ہی نہیں تھے وہاں سے ) اس لئے یوں کہنا چاہئے ، جب تک اسلامی عدل کی طرف نہیں آئیں گے۔جب تک حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق میں پناہ نہیں لیں گے جو تمام جہانوں کے لیے ایک رحمت بنا کر بھیجے گئے۔اس لئے صرف اور صرف آپ کی تعلیم ہے جو بنی نوع انسان کو امن عطا کر سکتی ہے۔باقی ساری باتیں ڈھکوسلے ہیں، جھوٹ ہیں، سیاست کے فسادات ہیں۔ڈپلومیسی کے دجل ہیں۔اس کے سوا ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔پس امن عالم کے قیام کی خاطر آج صرف جماعت احمدیہ ہے جس نے صحیح خطوط پر ایک عالمی جہاد کی بناڈالنی ہے۔اس لئے میں آپ سب کو اس امر کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ دنیا سے تعصبات کے خلاف جہاد شروع کریں اور دنیا سے ظلم وستم کو مٹانے کے لئے جہاد شروع کریں۔سیاست کو عدل سے روشناس کرانے کے لئے جہاد شروع کریں۔اگر یہ سب کچھ ہو تو یونائیٹڈ نیشنز یعنی اقوام متحدہ کی سوچ میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا ہو جائے گی، پھر اقوام متحدہ کی بہت سی کمیٹیاں ایسی بنائیں جائیں گی جو جس قسم کے خطرے میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں،ان کے او پر غور کرنے کے لئے اور ان خطرات کے ازالے کی خاطر وہ کام شروع کریں گی اور اس کے لئے ان کو دنیا میں ایسے منصف مزاج سابق میں عدلیہ سے تعلق رکھنے والے کارکن مل سکتے ہیں جن کے انصاف کے اوپر دنیا کو کوئی شک نہیں ہے۔مثلاً "ڈوشین "ہیں کینڈا کے ایک جسٹس