خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 692
خطبات طاہر جلد ۹ 692 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء ہوئے ہیں۔یہ جو بیدار مغز، تعلیم یافتہ ترقی یافتہ قومیں ہیں ان کے ہاں با قاعدہ ان کے نقشے موجود ہیں اور ان کو علم ہے کہ کس وقت کس خطرے کو ابھارنا ہے اور کس بم کو چلانا ہے اور دھما کہ پیدا کرنا ہے اور یہ جو نیتیں ہیں یہ ساری انتقامی کارروائیوں کی غرض سے خاموشی سے ان کے ذہنوں میں موجود رہتی ہیں۔ظاہر اس وقت ہوتی ہیں جب ان کے خود غرضانہ مفادات ان کو ظاہر ہونے پر مجبور کر دیں۔ورنہ ذہنوں میں موجود ہیں اور مغربی ڈپلومیسی کا حصہ ہیں۔افسوس یہ مسلمان ممالک بھی اسی سیاست میں مبتلا ہو چکے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ ہند وممالک بھی اسی سیاست میں مبتلا ہو چکے ہیں اور بدھسٹ ممالک بھی اسی سیاست میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ساری دنیا پر اسی ظالمانہ سیاست نے قبضہ کر لیا ہے۔جس کے اوپر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ خود غرضی راج کر رہی ہے، نا انصافی راج کر رہی ہے۔ان خطرناک رجحانات کا جب تک قلع قمع نہ کیا جائے اس وقت تک دنیا امن میں نہیں آسکتی اور جنگ کے سائے دنیا کے اوپر سے نہیں ملیں گے بلکہ اب جبکہ روس اور امریکہ میں صلح ہو چکی ہے، یہ چھوٹے چھوٹے خطرات زیادہ قوت کے ساتھ ابھریں گے اور ان کو اب آتش فشاں پہاڑوں کی طرح جاگ کر آگ برسانے سے کوئی دنیا میں روک نہیں سکے گا کیونکہ جب دنیا کی بعض اور عظیم قوموں کے مفادات یہ چاہتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں چھیڑ خانی چلی جائے۔غالب کہتا ہے : (دیوان غالب : ۲۳۹) یار سے چھیڑ چلی جائے اسد گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی اب یہ جو بڑی تو میں آپس میں خوباں نہیں تھیں اس وقت بھی ان کی چھیڑ میں جاری تھیں۔اب ان کی صلح ہوگئی ہے تو یہ چھوٹی چھوٹی قو میں ان کے لئے خوباں بن گئی ہیں۔ان کے ساتھ وصل تو ان کو نصیب نہیں ہو سکتا۔حسرتوں کی چھیڑ خانی اب باقی رہ گئی ہے۔اب یہ جو مضمون ہے، سو فیصدی تو کچھ شعر اطلاق نہیں پاتے اس لئے اسے کچھ تھوڑ اسا حالات پر چسپاں کرنے کے لئے مجھے مولد Mold کرنا پڑے گا۔یہ حسرتوں کی چھیڑ خانی جب محبوب اور عاشق کے درمیان ہوتی ہے تو مارا تو ہمیشہ عاشق ہی جاتا ہے۔کیونکہ محبوب طاقتور ہوتا ہے اور عاشق کمزور ہوتا ہے۔معشوق کو عاشق پر ہمیشہ غلبہ رہتا ہے۔لفظوں کی تفریق ہی یہ بتا رہی ہے کہ معشوق وہ ہے جو عاشق پر حکومت کرے۔تو یہاں عشق اور معشوق کا معاملہ تو نہیں ہے مگر غلبے اور مغلوبیت کا معاملہ ضرور ہے۔طاقت