خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 690 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 690

خطبات طاہر جلد ۹ 690 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ کچی ہیں ، پرو پیگنڈا نہیں ہیں تو چینی قوم کی طرف سے تبت قوم کے اوپر بھی بڑے بڑے مظالم توڑے گئے ہیں۔اب یہ بتائیے یعنی سوچئے اور غور کیجئے کہ عراق اگر کویت پر قبضہ کرتا ہے تو اس کا موازنہ تبت پر چین کے قبضے سے کیوں نہیں کیا جاتا جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ وہاں قومی اختلافات بھی ہیں نسلی اور مذہبی اختلافات بھی ہیں اور کئی قسم کے اختلافات ہیں، جنہیں کچلا گیا ہے۔جن کے نتیجے میں ایک قوم کو کچلا گیا ہے یہاں تو ایک مسلمان ملک ہی ہے جس نے ایک ہمسایہ ریاست پر اس بنا پر قبضہ کیا کہ عملاً تو ان کے درمیان فرق کوئی نہیں ہے ، وہی عرب وہ ہیں ، وہی وہ ہیں۔جیسے مسلمان یہ ہیں ویسے وہ مسلمان۔لیکن تاریخی طور پر اور زیادہ پرانی تاریخ نہیں ، اس دور کی تاریخ میں ہی کو بیت عراق کا حصہ تھا اور انگریز حکومت نے اسے کاٹ کر جدا کیا تھا۔میں ہرگز یہ تلقین نہیں کر رہا کہ اس قسم کی تاریخ کے گڑے مردوں کو اکھیڑا جائے۔میں صرف آپ کو یہ دکھا رہا ہوں کہ بنی نوع انسان کا عراق کے خلاف اجتماع کسی تقویٰ اور انصاف پر مبنی نہیں ہے۔اسرائیل جب دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیتا ہے اور اس قبضے کے نتیجے میں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور کوئی یہ خیال نہیں کرتا کہ اس سے امن عالم کو بڑا بھاری خطرہ درپیش ہو گیا ہے۔پس خود غرضی ہے جو اس وقت دنیا پر حاکم ہے اور خود غرضی سے خطرات درپیش ہیں اور جو طاقتور بڑی قومیں ہیں ان کا رجحان یہ ہے کہ بہت سے خطرات کو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر استعمال کرنے کے لئے یہ دبائے رکھتی ہیں اور اپنی سوچوں میں مزے لیتی رہتی ہیں کہ ہاں اگر فلاں شخص نے بد تمیزی کی یعنی فلاں لیڈر نے بد تمیزی کی یا فلاں قوم نے اپنے نئے پینترے دکھائے تو اس صورت میں ہم یہ جو وہاں دیا ہوا خطرہ ہے اس کو ابھار دیں گے اور اس آتش فشاں مادے کو چھیڑیں گے تاکہ پھر ان کو مزہ چکھا ئیں کہ اس طرح اختلافات ہوا کرتے ہیں۔اب آپ دیکھیں کہ ایران نے جب امریکہ کے ساتھ سختی کا سلوک کیا۔جماعت احمد یہ چونکہ انصاف پر مبنی ہے جماعت احمدیہ نے ہرگز ایک دفعہ بھی ایران کی اس معاملے میں تائید نہیں کی کہ امریکہ کے سفارت کاروں کو وہ اپنے قبضہ میں لے لیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے سفارت کاروں کا جو تقدس قائم فرمایا ہے اور اس بارے