خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 650 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 650

خطبات طاہر جلد ۹ 650 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۹۰ء کو میرے ساتھ مباہلے پر آمادہ کرو۔میرے بچنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے اگر کوئی غیر احمدی اس وقت جبکہ میں جان کنی کی حالت میں ہوں گا مجھ سے مباہلہ کر لے گا تو خدا ضرور مجھے احمدیت کی صداقت کی خاطر بچادے گا چنانچہ وہ باہر نکلے لیکن افسوس کہ جب خدا کی تقدیر آچکی ہو تو پھر کوئی ترکیب کارگر نہیں ہوتی۔چنانچہ پیشتر اس کے کہ وہ کسی کولا سکتے انہوں نے جان جان آفرین کے سپرد کر دی اور حضرت مصلح موعودؓ نے ان کو بھی شہدائے احمدیت میں شمار کیا کیونکہ تبلیغی سفر کے لئے نکلے تھے اور جس شان سے جان دی ہے، جس اخلاص کے ساتھ جان دی ہے اس سے یقیناً ان کا مقام شہداء سے کم شمار نہیں ہوسکتا۔محمد رفیق صاحب جو ان کے ساتھی تھے ان کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کے اس جذبے کو ہی قبول کرنا تھا کر لیا اور شاید اسی لئے ان کو یہ تحریک ہوئی کہ یہ اپنے ساتھ محمد رفیق کو لے جائیں چنانچہ محمد رفیق صاحب کو موقعہ ملا اور وہ کاشغر پہنچ گئے اور کاشغر میں جاکر انہوں نے تبلیغ کی اور اسی تبلیغ کے نتیجے میں حاجی جنود اللہ صاحب احمدی ہوئے اور پھر ان کے خاندان کے دوسرے دوست بھی ، ان کے بڑے بھائی بھی اور کچھ باقی افراد خانہ بھی احمدی ہوئے ، والدہ بھی احمدی ہو ئیں اور وہ لوگ پھر ہجرت کر کے قادیان آگئے۔حاجی جنود اللہ صاحب کی ہمشیرہ ہمارے خاندان میں بیاہی گئیں۔بھا بھی فرخ ہم ان کو کہا کرتے تھے۔سید بشیر شاہ صاحب جو میرے خالہ زاد بھائی تھے اور دوا خانہ خدمت خلق کے ایک لمبا عرصہ تک انچارج کا رکن رہے ہیں، ان کے ساتھ ان کا رشتہ طے ہوا اور ان کی اولا د یعنی بھا بھی فرخ کی اولا د تو اب قریباً ساری ہی کینیڈا میں ہے سوائے ایک بچی کے جو یمن میں بیاہی گئی ہے اور ایک بچی جوا بھی پاکستان میں ہے لیکن حاجی جنو داللہ صاحب کی اولاد میں سے دو بچے یہاں آپ کی انگلستان کی جماعت کے ممبر رہے ہیں۔ایک تو کینیڈا جاچکے ہیں اور ایک ابھی یہیں ہیں اور عنقریب ان کی شادی بھی ہونے والی ہے۔باقی بچے ان کے کینیڈا میں ہی ہیں اور ایک بچہ جاپان میں ہے تو اس طرح یہ خاندان بھی خدا کے فضل سے دنیا کی مختلف جگہوں میں پھیل گیا اور مختلف جگہ یہ جو ان کے بوٹے لگے ہیں اس کا خدا تعالیٰ کے فضل - سہرا عدالت خان صاحب کے سر پر ہے جن کی دعاؤں اور اخلاص کے نتیجے میں محمد رفیق صاحب کو کاشغر جانے کی توفیق ملی اور پھر ان کے ذریعہ یہ خاندان احمدی ہوا۔اس خاندان کے اس نوجوان