خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 649 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 649

خطبات طاہر جلد ۹ 649 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۹۰ء تو یہ وہ خوش نصیب تھے جنہوں نے نہ صرف آواز پر لبیک کہا بلکہ ان کی پیشکش قبول فرمائی گئی اور ان کو تاریخی لحاظ سے یہ سعادت بخشی گئی کہ تحریک جدید کے اعلان کے بعد واقفین کا جو دستہ دنیا میں پھیلا یا گیا ان میں یہ شامل ہوئے۔دو شہداء کا بھی اور ایک اور مبلغ کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے جو باقاعدہ وقف کر کے نظام کے تحت تو تبلیغ کے لئے نہیں نکلے لیکن حضرت مصلح موعود کی آواز سنتے ہی لبیک کہا اور مختلف علاقوں میں تبلیغ کے لئے چلے گئے۔ان میں سے تین دوستوں کا ذکر خاص طور پر حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا کیونکہ ان کی قربانی سے حضرت مصلح موعودؓ بہت متاثر تھے۔ایک ولی دادخان صاحب تھے۔یہ افغانستان کے باشندے تھے جب ۱۹۳۴ء میں تحریک ہوئی تو اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے طور پر ہی واپس اپنے ملک تبلیغ کے لئے چلے گئے اور جانے سے پہلے حضرت مصلح موعودؓ سے ہدایات لے لیں کہ کس رنگ میں تبلیغ ہونی چاہئے چنانچہ اس کے مطابق ایک عرصے تک دوستوں کو قادیان بھجواتے رہے اور ہندوستان میں جب بھی وہاں سے کوئی مسافر آتا تھا تو اس کو یہ تحریک کرتے تھے کہ احمدیوں سے رابطہ کرو۔اس کے نتیجے میں تبلیغ پھل لانے لگی لیکن اس کے ساتھ ہی حسد بھی بڑھنے لگا۔آخر اپنے ہی قریبی رشتے داروں نے ان کو ایک موقعہ پر جب یہ ہندوستان سے واپس جارہے تھے تو گولیاں مار کر شہر کر دیا۔دوسرے دوست عدالت خان تھے یہ خوشاب کی طرف کے غالبا شاہ پور خوشاب کے علاقے کے تھے۔انہوں نے بھی وقف کے ساتھ ہی چین کے سفر کی نیت باندھی اور اس غرض سے یہ بھی پہلے افغانستان گئے لیکن پاسپورٹ نہیں تھا۔اس لئے وہاں قید کر دیئے گئے اور قید کی حالت میں بھی تبلیغ کرتے رہے جس کا بہت اثر ہونا شروع ہوا۔چنانچہ حکومت افغانستان نے ان کو پھر ملک بدر کر کے واپس ہندوستان بھجوادیا۔واپس آکر حضرت مصلح موعود کی خدمت میں رپورٹ پیش کی اور کہا کہ اب میں چین کے ارادے سے جاتا ہوں۔چنانچہ دوسری مرتبہ بھی چین کے ارادے سے نکلے تو اپنے ساتھ ایک دوست محمد رفیق صاحب کو بھی لے گئے۔یہ ایک اور نو جوان تھے کشمیر میں ان کو نمونیہ ہو گیا اور اس نمونیہ کی حالت میں جب دیکھا کہ اب آخری سانس ہیں، وقت قریب آگیا ہے تو حضرت مصلح موعودؓان کے اخلاص کا اور ایمان کا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت اور کوئی علاج میسر نہیں تھا اور موت سر پر کھڑی تھی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جلدی جاؤ اور کسی غیر احمدی