خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 60

خطبات طاہر جلد ۹ 60 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء لئے آپ نے عبادت کے ان رستوں کے متعلق ایک مضمون بیان فرمایا اور صَدَهَا کا مضمون یہ بیان کرتا ہے کہ اس رنگ میں اس کو روکا کہ اس کا دل واقعہ رک گیا۔اس کو اس قسم کی عبادت سے دلی نفرت پیدا ہوگئی۔اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كَفِرِينَ وہ پہلے کافرین کی قوم میں سے تھی باوجود اس کے کہ قرآن تسلیم کر رہا ہے کہ اس وقت وہ کا فرنہیں تھی مسلمان ہو کر آئی تھی لیکن چونکہ پہلے کافروں میں سے تھی اس لئے اس کے کفر کے زنگ مٹانے ضروری تھے اور اسلام لانے کے باوجود اسے اسلام کا حقیقی مفہوم سمجھانا ضروری تھا۔قِيْلَ لَهَا ادْخُلِى الطَّرح اس سے پھر یہ کہا گیا کہ اس خوبصورت اور بلند محل میں داخل ہو جا۔فَلَمَّا رَآتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا اس نے اسے پانی کا ایک تالاب سمجھا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اس طرح اُٹھالیا جیسے پانی میں داخل ہوتے ہوئے عام طور پر لوگ کپڑا اٹھا لیتے ہیں کہ بھیگ نہ جائے۔قَالَ إِنَّهُ صَرْحُ مُمَرَّدُ تب حضرت سلیمان نے اس سے یہ فرمایا کہ ایک محل ہے۔مُّمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ جو بڑی نفاست کے ساتھ شیشوں کے ٹکڑوں سے بنایا گیا ہے اور بہت ملائم کر دیا گیا ہے۔قمرد کا مطلب ہے جسے نفاست سے برابر چنا گیا ہو کہ اس کے درمیان خلا دکھائی نہ دیں یعنی ٹکڑوں کے درمیان اگر ایسی برابری ہو جائے کہ گویا ایک ہی سطح دکھائی دینے لگے اور ملائمت اس میں پیدا ہو جائے تو اس کو ھمرد کہتے ہیں۔یہ شیشوں کے ٹکڑے سے اس طرح بنایا گیا ہے کہ بالکل برابر کردئے گئے ہیں۔کوئی جوڑ دکھائی نہیں دیتا اور بہت ہی چمکا دئے گئے ہیں۔قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِی تب اس نے کہا کہ اے میرے رب ! میں نے تو اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے۔وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں سلیمان کے ساتھ ایمان لاتی ہوں اس اللہ پر جو تمام جہانوں کا رب ہے۔یہ وہ اسلام ہے جو حقیقی اسلام تھا جو حضرت سلیمان کے سمجھانے کے بعد اس کو نصیب ہوا۔پس دیکھیں کتنا فرق پڑ جاتا ہے اسلام میں ایک اسلام وہ ہے جو ظاہری علم کی بنا پر کسی کونصیب ہوا یہاں تک کہ اس ملکہ نے اپنی قوم کو بھی ساتھ شامل کر لیا مگر صاحب حکمت نبی نے پہچان لیا کہ اس اسلام کی کوئی قیمت نہیں ہے جب تک اس کی گہرائی میں اس کو نہ اتارا جائے جب تک اس کی حکمتیں نہ بیان کی جائیں۔جب اس نے حکمتیں بیان کیں تو اپنا پہلا اسلام اس کو اندھیرا دکھائی دینے لگا۔