خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 635
خطبات طاہر جلد ۹ 635 خطبه جمعه ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء رفتہ رفتہ ان میں نافذ کرنا ہوگا اور یہ ایک ایسا اہم معرکہ ہے جس کو جماعت احمد یہ نے سر کرنا ہے۔ بہر حال اسلام ایک اور رنگ میں ان پر اثر پذیر ہو رہا ہے اور وہ ہے اسلام کا قومیت کے ساتھ تعلق اور وہی دو قومی نظریہ جس کی ایک شکل علامہ اقبال نے پیش کی وہ ان جگہوں پر روس کی یونائیٹڈ ریپبلک سے نجات حاصل کرنے کی خاطر استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسے بغاوت کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے اس لئے نہیں کہ یہ نمازیں نہیں پڑھتے اس لئے جہاد کیا جائے ، اس لئے نہیں کہ نئی ابھرتی ہوئی شکل میں اُن کی مذہبی آزادیوں پر قدغن لگا دی جائے گی بلکہ اس کے بالکل برعکس صورت ہے اور اس کے با وجود یہ قومی نظریہ ایک قوت بن کر ابھرنے والا ہے۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ ان کے تبدیل شدہ حالات میں مذہبی آزادی دی جا رہی ہے اور صرف مسلمان علاقوں میں نہیں بلکہ یورپین علاقوں میں بھی عیسائیت کی خاطر بہت سے قوانین میں تبدیلی پیدا کی جا رہی ہے جن کا اثر اسلامی دنیا پر بھی لازمی ہوگا۔ پس اگر اسلام کے نقطہ نگاہ نگاہ سے کوئی رد عمل ہوتا تو اُس کے ۔ کے لئے تو ضروری تھا کہ اسلام میں دخل اندازی بڑھتی ۔ جب دخل اندازی تھی اُس وقت تو کوئی رد عمل نہیں ہوا ۔ اُس وقت تو روس کا کوئی حصہ یہ طاقت ہی نہیں رکھتا تھا کہ اسلام کے نام پر روس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اب بھی جونئی نسلیں روس کی مرکزی حکومت سے بغاوت کا خیال کر رہی ہیں اُن کو بذات خود تو اسلام سے کا تعلق نہیں ہے یعنی اکثریت اُن میں سے نماز نہیں جانتی ، قرآن نہیں جانتی۔ محبت اسلام کی اُٹھ رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اسی محبت سے ہم نے فائدہ اُٹھانا ہے لیکن محبت عمل کے سانچے میں ڈھل جائے یہ بات محض خیالی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ ابھی تک محبت صرف ایک نسلی تصور کے سانچے میں ڈھل رہی ہے، ایک قومی تصور کے سانچے میں ڈھل رہی ہے اور اُس کے نتیجے میں اس قوم میں مرکزی روس سے بغاوت کے خیالات اُبھر رہے ہیں ۔ ان خیالات پر باہر سے چھاپے پڑیں گے، ان خیالات پر سنی اسلام بھی چھاپہ مارے گا اور انہیں اپنانے کی کوشش کرے گا ، ان خیالات پر شیعہ اسلام بھی چھاپے مارے گا اور اُن کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔ اسی طرح دوسرے مذہبی اور قومی اختلاف جو مسلمانوں کی باہر کی دنیا میں موجود ہیں وہ اپنا اپنا رنگ دکھائیں گے اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے اور مسلمانوں