خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 636 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 636

خطبات طاہر جلد ۹ 636 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۹۰ء کے روس کے اندر واقع زیادہ سے زیادہ حصے پر اپنا اثر جمانے کی کوشش کریں گے۔یہ ایک نیا معرکہ کھل رہا ہے اور اگر جماعت احمدیہ نے جلدی نہ کی اور حقیقی اسلام سے ان قوموں کو متعارف نہ کروایا۔اگر اُس عالمگیر اسلام سے ان قوموں کو متعارف نہ کروایا جس کا نسل پرستی سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس کا اُس قومی نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے جو دنیا میں قوموں کے تعلق میں پایا جاتا ہے بلکہ اسلام کا ایک ایسا عالمگیر تصور ہے جو قومی اور نسلی تصورات کی نفی پر قائم ہوتا ہے اور اُن کی موجودگی سے شدید نقصان اُٹھاتا ہے۔اسی لئے جو آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی اُس میں۔بات خوب کھول دی گئی کہ یا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا کہ اے بنی نوع انسان ! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے گویا کہ نسلی اور قومی لحاظ سے تم ایک ہی چیز ہو۔اگر کوئی تفریق ہے تو مرد اور عورت کی اس تفریق کو نہ تم مٹا سکتے ہو نہ اُس تفریق پر قومی اور نسلی نظریات قائم کر سکتے ہو اور اگر کرو گے تو وہ غلط ہوگا کیونکہ مرد اور عورت کے باہمی اشتراک کے بغیر بنی نوع انسان قائم نہیں رہ سکتے وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ ہم نے مختلف گروہوں اور قبیلوں میں تمہیں اس لئے بانشا لِتَعَارَفُوا تا کہ ایک دوسرے سے تعارف کرواسکو۔تمہاری شخصیات پہچانی جائیں۔جیسے ناموں کی تفریق سے انفرادی شخصیات پہچانی جاتی ہیں لیکن ناموں کی تفریق پر گروہ تقسیم نہیں ہوا کرتے۔یہ نہیں ہوا کرتا کہ ناصر نام کے سارے آدمی اکٹھے ہو جائیں اور طاہر نام کے سارے آدمیوں کے مقابل پر ایک گروہ بنا لیں۔یا خلیل نام کے سارے نام کے آدمی اکٹھے ہو کر مبارک نام کے تمام آدمیوں کے خلاف ایک گروہ بندی کر لیں۔یہ ایک تعارف کا طریق ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔اس کے نتیجے میں کسی قسم کے تعصبات نہ اُبھرنے چاہئیں نہ عقلاً اُبھر سکتے ہیں۔تو قرآن کریم نے یہ مثال دی ، تعارف کا لفظ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ اس سے آگے بڑھو گے تو حماقت ہوگی اور جہالت ہوگی۔تعارف کی حد تک قوموں کی تقسیم رہنی چاہئے اور رہے گی۔ان کی مزاج شناسی کے لحاظ سے اگر یہ تفریق رہے تو اس کا کوئی حرج نہیں لیکن اس سے آگے اس تفریق کو بڑھنے کا حق نہیں۔اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتَقُكُمْ اب تمام عالم اسلام صرف ایک لحاظ سے قوموں کو قوموں سے یا فرد کو فرد سے الگ کرنے کی اجازت دیتا ہے اور وہ ہے تقویٰ۔اگر کوئی زیادہ متقی ہے تو قطع نظر اس کے کہ اُس کی قوم کیا ہے اُس کا مذہب کیا ہے، اُس کا