خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 633
خطبات طاہر جلد ۹ 633 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۹۰ء اُدھر اسلام بھی اس معاملے میں ایک کردار ادا کرنے والا ہے اور اُن قوموں میں سے جو ایران سے تعلق رکھنے والی قومیں ہیں اور ترکی بولنے کے باوجود اُن میں ایرانی اثرات بھی بڑے گہرے ہیں اُن کو ایران اپنی طرف بلائے گا اور اُن میں سے بہتوں کا شیعہ ہونا اس بات میں محمد ہو گا۔پھر ایسی قومیں ہیں جو خالصہ سُنی ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ ترکی بولنے والی ہیں ، اوٹی فرزبان بولتی ہیں یا کوئی اور زبان بولتی ہیں اُن کو سنی مسلمان دنیا اگر اُن کو اپنی ہوش آنے دی گئی تو اپنی دولت کے ذریعے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کریں گے۔روس ویسے ہی ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں یہ ٹوٹ رہا ہے اور بکھرنے والا ہے۔کوئی غیر معمولی قوت ایسی اُبھرے جو اُس کو بکھرنے اور ٹوٹنے سے روک دے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے مگر سر دست جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے ایسی کوئی بیرونی یا اندرونی طاقت دکھائی نہیں دیتی جو روس کو سنبھالے رکھے۔اور روس کے ٹوٹنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک نظریہ کو قوم بنادیا گیا جیسا کہ پاکستان میں ایک نظریے کو قوم بنایا گیا۔روس کا بحیثیت ملک کے دنیا کے نقشے پر ابھرنا کسی ایک قوم کے وہاں ہونے کے مرہون منت نہیں بلکہ اشترا کی نظریے کی پیداوار ہے۔اس سے پہلے زار نے جو مختلف ممالک پر قبضہ کیا تھا اس وقت اس قسم کی کلونیل ازم (Colonialism) کی کیفیت پائی جاتی تھی یعنی ایک بہت بڑی یورپین طاقت نے بہت سے وسیع ارد گرد کے مسلمان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا جیسے اس سے پہلے مسلمان خوانین روس پر قابض ہوا کرتے تھے اور اس کے یورپین علاقہ پر قابض ہوا کرتے تھے۔تو وہ جو کیفیت تھی وہ تبدیل کر دی گئی اور ۱۹۱۸ء کے انقلاب میں جونئی بات روس سے رونما ہوئی وہ یہ تھی کہ قوم کی بجائے نظریے نے ایک ملک پیدا کیا اور روس نے تمام دنیا میں بڑے زور سے اس بات کا پروپیگنڈا شروع کیا کہ ملک حقیقت میں قوموں سے نہیں بنا کرتے بلکہ نظریوں سے بنتے ہیں اس لئے ہمارا نظریہ عالمگیر ہے اور عالمگیر اشترا کی قوم دنیا میں ابھرے گی اس نظریے سے استفادہ کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے ممالک کو آپس میں پھاڑنے میں ان لوگوں نے بہت سا کام کیا اور جہاں جہاں یہ نظر یہ پھیلا ہے وہاں قومیت کے خلاف بھی جہاد شروع ہوئے لیکن بعض جگہ اس نظریہ کا کھلم کھلا تصادم ہوا کہ اسلام بھی دراصل نظریہ کے نام پر ملک قائم کرنا چاہتا ہے اور قوم کا کوئی تصور اس کے سوا موجود نہیں۔اس نظریے کی ایک محدود شکل پاکستان کا دو قومی نظریہ ہے۔اس وقت میرے پاس وقت