خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 632

خطبات طاہر جلد ۹ 632 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۹۰ء ہے کہ ساؤتھ کے باشندے کہتے ہیں کہ ہم نے ساؤتھ کے مفاد کی حفاظت کرنی ہے۔انگریز سمجھتا ہے کہ ہم نے انگریز کے مفادات کو سکائش کے مفادات پر قربان نہیں ہونے دینا۔ویلش سمجھتا ہے کہ ہم سے زیادتی ہو رہی ہے اور Exploitation کی جارہی ہے اور جو حقوق ویلش کو ملنے چاہئیں وہ بقیہ انگلستان ہمیں نہیں دیتا غرضیکہ یہ ایک مثال ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ در حقیقت دنیا کی اکثر ریاستیں امریکہ ہو یا انگلستان ہو یا جرمنی ہو یا دیگر ریاستیں دراصل وہ ایک قوم پر مشتمل نہیں۔اہل علم کے نزدیک اگر کوئی ایک ملک حقیقۃ ایک ہی قوم پر مشتمل ہے تو وہ لڑکی ہے لیکن در حقیقت یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ کردش قوم اپنے آپ کو ٹرکش قوم سے بالکل الگ سمجھتی ہے۔اُن کی قدریں اور اُن کی زبان، اُن کے مزاج عام ٹرکش سے بالکل مختلف ہیں اور یہی وجہ ہے ان دونوں قوموں کے درمیان شدید منافرت بھی پائی جاتی ہے ، عدم اعتماد بھی پایا جاتا ہے اور کر د دنیا میں یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس حد تک درست ہے یا غلط کہ وہ لمبے عرصے سے ٹرکش قوم کے مظالم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں لیکن اگر کسی حد تک کسی ایک ملک کو قومی ملک قرار دیا جا سکتا ہے تو گردی حصے کو چھوڑ کر باقی ترک قوم کو واقعہ ایک قوم اور ایک ملک ہونے کی فضیلت حاصل ہے یعنی نسبتاً اُن کے اوپر اس کا اطلاق پاسکتا ہے کہ ایک قوم اور ایک ملک ہے لیکن جہاں تک تر کی قوم کا تعلق ہے یہ عجیب بات ہے کہ ترک قوم ترکی میں کم اور ترکی سے باہر زیادہ ہے اور چھ اور چار کی تقریباً نسبت ہے۔اگر چار ترک ترکی میں آباد ہوں تو چھ ترک ترکی سے باہر ہیں اور اس سے میری مراد یہ نہیں کہ یورپ میں مختلف حصوں میں پھیلے پڑے ہیں وہ تو ہیں ہی وہ تو دنیا کی ہر قوم دنیا کے تقریباً ہر دوسرے ملک میں چلی جاتی ہے مگر زیادہ تر روس میں ترک قوم آباد ہے اور ترکمان کہلاتے ہیں۔اگر چہ یہ آپس میں بھی بٹے ہوئے ہیں اور مختلف قسم کی تحریکات اب جنم لے رہی ہیں جن میں ایک دوسرے سے ایک ترک ریاست کو جو دوسری ترک ریاست سے خطرات درپیش ہیں اُن کو اُبھار کر آپس میں ایک دوسرے کے مقابل پر پیش بندیاں کی جارہی ہیں لیکن ساتھ ہی ایک عمومی جذ بہ اُبھر رہا ہے کہ ہم ترک قوم ہیں اور ہمارا ترکی سے الحاق ضروری ہے اور اس خیال کو تر کی قوم آئندہ ہوا دے گی اور ترک قوم کے مفادات اس بات سے وابستہ سمجھے جائیں گے کہ دنیا کے تمام ترک اکٹھے ہو جائیں اور ترکی کا لفظ ایک وسیع تر ملک پر اطلاق پائے اور Ottoman ایمپائر کا جو وسیع تصور تھا اُس نے لازماً دوبارہ جنم لینا ہے۔