خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 616 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 616

خطبات طاہر جلد ۹ 616 خطبہ جمعہ ۱۹/اکتوبر ۱۹۹۰ء لیکن خیالات کی ہم آہنگی بہت ہی خوش آئند ہے اور آئندہ جماعت احمدیہ کے غلبے کے لئے بہت سی امیدیں پیدا کرتی ہے۔جہاں تک احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو قبول کرنے کا تعلق ہے اس کے لئے خیال کی ہم آہنگی ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کی راہ میں اور بہت سی روکیں ہیں ،ان میں سے ایک روک کا میں نے گزشتہ کسی خطبے میں ذکر کیا تھا کہ وہ معاشرے کے اختلاف کی روک ہے۔مغربی معاشرے نے ہی نہیں بلکہ دنیا کی دیگر بہت سی قوموں کے معاشروں نے بھی انسان کو اپنے رہن سہن میں ایسی لذتوں کی آزادی بخش دی ہے کہ اس میں گناہ کا خیال ان کے لذتوں کی پیروی کی راہ میں حائل نہیں ہوتا اور کوئی سماجی روک بھی ایسی نہیں جس کے نتیجے میں وہ بعض گناہوں سے باز رہنے پر مجبور ہوں یا باز رہنے کی طرف ان کا بے اختیار میلان ہو یا دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہئے کہ سماج کے اثر کے نیچے باز نہ رہنا بھی چاہیں تو باز رہیں۔پس یہ دو قسم کے نمایاں اثرات ہیں جو انسان کو بدیوں سے روکتے ہیں۔ایک خدا کا تصور اور اس کے نتیجے میں گناہ کا خیال جو انسان کو بدیوں سے روکنے میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتا ہے اگر خدا کا تصور حقیقی ہے تو گناہ کا خوف یعنی گناہ سے بچنے کا خیال بھی ایک حقیقی خیال بن جاتا ہے اور انسان کو بدیوں سے روکنے میں ایک بڑی قوت بن کر ابھرتا ہے۔اگر خدا کا تصور واہمی سا ہو، اگر خدا کا تصور ایک بعید تصور ہواور حقیقی اور سچا اور زندہ تصورنہ ہو تو اگر چہ گناہ کا تصور اس سے بھی پیدا ہوتا ہے لیکن وہ تصور بے اثر ثابت ہوتا ہے اور انسان عقلی طور پر ایک بات کو گناہ تسلیم کرتے ہوئے بھی اس سے باز رہنے کی طاقت نہیں رکھتا۔پس ان دونوں باتوں کا باہم گہرا رشتہ ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ ایک ایسا تعلق ہے کہ ایک اگر طاقت پکڑے گا تو دوسرا بھی طاقت پکڑے گا۔پس خدا پر ایمان جتنا قوی ہوتا چلا جاتا ہے گناہ سے نفرت بھی اسی قدر قوی ہوتی چلی جاتی ہے یا اگر نفرت نہ ہوتو گناہ کا خوف اور گناہ سے بچنے کا رجحان اسی قدر زیادہ طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے۔پس ہمارا مقابلہ ایک پہلو سے دہریت سے ہے اور اسی دہریت کے نتیجے میں معاشروں کو آزادی ملتی ہے۔جب گناہ کا تصور باقی نہ رہے تو معاشرے کے رنگ بدل جاتے ہیں۔دوسری قوت جو انسان کو بدیوں سے روکتی ہے وہ سماج کی قوت ہے۔بعض دفعہ گناہ کا خیال انسان کو کسی چیز سے نہیں روکتا بلکہ سماج کا دباؤ اس کو بعض چیزیں کرنے سے روکتا ہے اور سماج مختلف