خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 613
خطبات طاہر جلد ۹ 613 خطبه جمعه ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۰ء جنوں سائیاں رکھے انوں نہ مارے کوئی ، جس کو سائیں نے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اس کو کوئی مار نہیں سکتا اور قوالوں کی طرح اسی مصرعہ پر اٹکا ہوا تھا ، یہی گائے جا رہا تھا۔اچانک مجھ کو یہ خیال آیا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ میری دعا کا جواب دے رہا ہے۔یہ مریض وہ ہے جس کو پوری مارنے کی کوشش کی گئی مگر خدا نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ نہیں مارنے دینا اس لئے تم لوگ کچھ نہیں کر سکتے۔جو مرضی کرلو خدا نے نہیں مرنے دینا اس مریض کو۔اب یہ دل کا تاثر ہو سکتا تھا لیکن اسی شام جب میں ہسپتال بیوی سے ملنے گیا تو انہوں نے عجیب بات بتائی کہ اس ہسپتال میں نہ کوئی گانے ، نہ شور نہ ٹیلی ویژن Intensive Care ہے دل کی آواز بھی باہر سے نہیں آتی۔جس وقت ECgہور ہی تھی اس وقت اچانک کہیں سے ایک ٹیلی ویژن آن ہوا ہوگا یار یڈیو ، یہ آواز آرہی تھی بار بار پنجابی گانے کی کہ ”جنوں سائیاں رکھے انوں نہ مارے کوئی اب اس ہسپتال میں میں بار بار گیا ہوں ، میں نے ایک دفعہ بھی نہ ریڈیو کی آواز سنی نہ ٹیلی ویژن کی آواز سنی اور Intensive Care میں ویسے بھی نہیں پہنچا کرتی آواز میں لیکن یہ خدا نے بتانا تھا کہ یہ بھی ایک الہام کی قسم ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کی آوازوں کے ذریعے جو عام قانون میں جاری ہیں ایک پیغام پہنچا دیتا ہے اور اسے تقویت دینے کی خاطر اس اعجازی رنگ میں اس کودہراتا ہے کہ انسان کے لئے شک کی گنجائش نہ رہے اور پھر جو بعد واقعات ہیں شفا کے جو بیان کئے ہیں ثابت کرتے ہیں کہ یہی خدا کا فیصلہ تھا۔الحمد للہ مجھے یقین ہے اصل میں یہ کہنا چاہئے تھا کہ خدا کا فیض ہے صرف لیکن اس فیض کو بندوں میں دہرا لطف پیدا کرنے کی خاطر وہ دعاؤں کے ساتھ ملا دیا کرتا ہے اور تا کہ بندوں کو یہ بھی لطف آئے کہ ہمارا بھی ہاتھ لگا ہوا ہے۔ان معنوں میں دعاؤں کا میں ممنون ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے محبت کرنے والے احباب جماعت کا ہاتھ بھی لگوا دیا ورنہ اصل میں تو ہر فیض اسی سے جاری ہوتا ہے اور اسی کے فیصلے کے مطابق جاری ہوتا ہے اور میں تمام احباب جماعت کا میں دل کی گہرائیوں سے شکر یہ ادا کرتا ہوں یہ جتنے بھی خط ملتے ہیں میں خود بھی پڑھتا ہوں بڑے غور سے اور پھر بی بی کو بھی پہنچا دیتا ہوں وہ بھی پڑھتی ہیں اور ہر ایک کا پیغام ان تک براہ راست بھی پہنچ رہا ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء