خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 603
خطبات طاہر جلد ۹ 603 خطبه جمعه ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۰ء خدا کے دینے کا ہاتھ دیتار ہے ان کا تعلق ہے اگر دینے کا ہاتھ رک گیا تو وہ آگ کے کنارے پر کھڑے ہیں وہیں گر جائیں گے اور بھسم ہو جائیں گے۔ان کی زندگی اس بات سے مشروط ہوتی ہے اور یہ صرف براہ راست خدا سے تعلق میں نہیں بلکہ مذہبی جماعتوں سے تعلق میں بھی ان کا یہی طرز فکر ہے جو ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ایک احمدی ہے اگر نظام جماعت سے اس کو فیض پہنچ رہا ہے تو وہ تعلق رکھ رہا ہے اور جہاں کسی موقعہ پر نظام نے فیض نہیں دیا یا فیض تو ہ دیتا ہے لیکن نظام کے فیض کی تعریف اور ہے اور اس کے فیض کی تعریف اور ہے۔وہیں وہ کھڑا ہو جائے گا اور الٹ کر دیکھے گا نظریں ملا کر اور اس کی نظروں میں کوئی شرم کوئی حیاء کوئی ادب نہیں ہوگا کہ یہ جماعت ہے، مجھے اس کی ضرورت تھی اور تم لوگ میرے کام نہیں آئے۔جاؤ جہنم میں، مجھے کوئی ضرورت نہیں، میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔تو ایسے بچے جن کا جنین سے یہ تعلق رہتا ہے ذرا بھی جنین ان کو خوراک دینی بند کر دے تو وہ مرجاتے ہیں۔اور ظاہری تعلق بھی تو ڑ لیتے ہیں اور فسادی بن جاتے ہیں۔اگر وہ زیادہ دیر جسم میں رہیں تو جسم کو بھی گندا کرنا شروع کر دیتے ہیں اس لئے جسم ان کو نکال کے باہر پھینک دیتا ہے۔پس خدا کو براہ راست مخاطب کر کے یہ کہنے والے لوگ تو کم ہوں گے یعنی مذہبی دنیا میں۔غیر مذہبی دنیا میں تو ان کو پر واہ ہی کوئی نہیں کہ خدا ہے یا نہیں ہے۔لیکن نظام جماعت سے یا مذہبی نظام جو بھی سے تعلق میں یہ لوگ خواہ وہ عیسائیت ہو یا کوئی اور مذہب ہو۔ہمیشہ نفسانیت کو اتنا اونچا مقام دیتے ہیں کہ مذہب سے تعلق صرف فیض پانے کا ہے ، فیض دینے کا کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ آپ کو لاکھوں کروڑوں عیسائی بھی ایسے ملیں گے جو فیض کی خاطر عیسائی ہوئے جب تک ان کو Aid ملتی ہے جب تک ان کو فیض پہنچتارہتا ہے وہ عیسائی بنے رہتے ہیں جہاں وہ فیض ختم ہوا انہوں نے عیسائیت سے تعلق تو ڑ لیا۔تو یہ وہ آخری اندھیرا ہے اور اس کی بہت سی صورتیں ہیں۔میں نے صرف ایک مثال دی ہے کیونکہ یہ مضمون بہت وسیع ہو جائے گا اس کو آپ اپنے طور پر سوچ کر اپنی زندگی کی مختلف حالتوں پر اطلاق کر کے دیکھ سکتے ہیں۔جب میں کہتا ہوں اپنی زندگی کی مختلف حالتوں پر تو میری مراد یہ نہیں ہے کہ نعوذ بالله من ذلك ہم میں سے ہر ایک اسی حالت میں ہے اور وہ پہچان سکتا ہے کہ میں اسی حالت میں زندگی بسر کر رہا ہوں بلکہ میری مراد یہ ہے کہ ان مثالوں کا سوفی صدی اطلاق نہیں ہوا کرتا ہر انسان پر۔یہ مثالیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی نہ کسی حد تک کسی نہ کسی شخص سے کوئی نہ