خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد ۹ 601 خطبه جمعه ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۰ء آخری حساب پیاس کی حالت میں مرنا ہے۔اگر چہ یہ سفر بہت لمبا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ اللہ تعالیٰ بہت تیز حساب کرنے والا ہے۔حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی بعض دفعہ لمبی زندگیاں جو دنیا کی لذتوں کے حصول میں صرف ہو جاتی ہیں اور اس وقت حساب نہیں ہوتا تو اس سے ایک تو ہمیں یہ سمجھ آئی کہ سَرِيعُ الْحِسَابِ کا وہ مطلب نہیں ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی گناہ کیا اور ابھی پکڑا گیا۔کیونکہ سراب کی پیروی کرنے والا جب تک سراب تک نہ پہنچ جائے یعنی اس مقام تک جس کے بعد آگے سفرختم ہو جاتا ہے تو اس وقت تک اس کا حساب پورا چکا یا نہیں جاتا لیکن دوسرا مضمون اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ اگر چہ آخری حساب سفر کے آخر پر چکا یا جاتا ہے لیکن ایک مسلسل حساب ہے جو ساتھ کے ساتھ جاری ہے اور ان معنوں میں اللہ تعالیٰ سَرِيعُ الْحِسَابِ ہے یعنی یہ نہ سمجھیں کہ جب وہ موت کے آخری کنارے پر پہنچ کر پیاس سے مر رہا ہے تو اس وقت اس پر سَرِيعُ الْحِسَابِ ظاہر ہوا ہے۔بلکہ پیاسا جب پانی کی تلاش میں سرگردان ہوتا ہے اور پانی سمجھ کر ایک چٹیل میدان کی طرف بھاگ رہا ہوتا ہے تو اس کا ہر قدم اس کا حساب چکا رہا ہوتا ہے: ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھ سے میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے (دیوان غالب : ۲۹۴) غالب نے جو یہ مضمون بیان فرمایا ہے اس سے آپ کو سَرِيعُ الْحِسَابِ سمجھنے میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔پس سراب ہی کا نقشہ ہے جو غالب نے کھینچا ہے کہتا ہے: ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھ سے مجھ سے دوری منزل اس وقت ظاہر نہیں ہوتی جب میں آخر پر پہنچتا ہوں اور کچھ نہیں پاتا بلکہ ہر قدم پہلے سے زیادہ دو بھر اور مشکل ہوتا چلا جاتا ہے اور میری تکلیف کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے آخر پر پھر یہ بات کھلتی ہے کہ میں محض ایک سراب کی پیروی کر رہا تھا اور کچھ بھی نہیں تھا جس کی خاطر میں لا حاصل دوڑا۔پس سَرِيعُ الْحِسَابِ کا ایک تو ہمیں یہ اشارہ مل گیا کہ بہت سی باتوں میں خدا تعالیٰ کے سَرِيعُ الْحِسَابِ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادھر گناہ کیا ادھر پکڑے گئے۔لیکن جھوٹی لذتوں کی پیروی کرنے والوں کے لئے سَرِيعُ الْحِسَابِ کا یہ بھی معنی ہے کہ ہمیشہ ایک محرومی