خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 600
خطبات طاہر جلد ۹ 600 خطبه جمعه ۱۲ را کتوبر ۱۹۹۰ء کی دنیا سے فیض پانے کے دراصل دور ستے ہیں۔سننا اور دیکھنا۔یہی سب سے اہم رستے ہیں۔بولنا ان کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اس لئے دراصل بولنے کا لفظ ان کے اندر شامل ہے تو چونکہ پیدائش کے معابعد بچہ بولنے نہیں لگتا۔لیکن فوراً دیکھنے اور سننے لگ جاتا ہے اس لئے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا یہ بھی کمال ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ وہ اچانک بولنے لگ جاتا ہے۔بلکہ فرمایا کہ وہ دیکھنے اور سننے لگ جاتا ہے یعنی بولنے کے لئے تیاری شروع ہو جاتی ہے اور جو علم وہ پاتا ہے اس کے بیان کی قدرت پھر اس کو ان ہی دو ذریعوں سے نصیب ہوتی ہے۔تو یہ تین اندھیرے ہیں جو بہت اختصار کے ساتھ میں نے بیان کئے اور جو ماں کے اندر بچے کی مثال کے ذریعے ہم پر واضح فرمائے گئے۔اب ہم پہلی دو آیات کی طرف آتے ہیں کہ ان میں کیا مضمون بیان ہوا ہے اور وہ اندھیرے ہماری زندگی پر کس طرح اطلاق پاتے ہیں اور ہیں کیا ؟ پہلی آیت میں تو ایسے کفار کی مثال دی گئی ہے جو کلیہ مذہب سے بے تعلق اور خالصہ دنیا دار ہیں۔ان کو نہ خدا کا کچھ پتا ، نہ کسی مذہب کا پتا، ان کی زندگی یہی دنیا اور اسی کی لذات کی پیروی ہے اور اس کے سوا ان کے لئے اور کچھ بھی نہیں۔تمام کائنات گویا کہ ان کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔صرف وہ چیزیں معنی اختیار کر جاتی ہیں جو ان کو لذت دینے میں کسی طرح محمد بنتی ہیں یا براہ راست ان کو لذت پہنچاتی ہیں۔پس ان کی ساری زندگی لذتوں کی پیروی میں بسر ہو جاتی ہے اور جو لذتیں انہوں نے اپنے تصور سے ،اپنے ذہن کے نقشے میں ایسی بنائی ہوئی ہوتی ہیں کہ ان کو حاصل کرنے کے بعد ان کی پیاس بجھ جائے گی ، ان کو چین نصیب ہو جائے گا۔بلا استثناء جب بھی یہ ان لذتوں کو حاصل کرتے ہیں تو وہ پیاس بجھانے میں کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ ایک اور پیاس بھڑکا دیتی ہیں اور سراب کی طرح آگے آگے بھاگتی رہتی ہیں یہاں تک کہ آخری وقت پہنچ جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس لمبے سفر کو مختصراً یوں بیان فرما دیا کہ سراب کی طرح ان کے اعمال ہیں اور سراب کے متعلق ہم سب جانتے ہیں کہ پیاسا صرف ایک مقام کو نظر میں رکھ کر وہاں تک نہیں پہنچا کرتا بلکہ سراب اس سے آگے بھاگتا رہتا ہے اور وہ اس کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے یہاں تک کہ موت کا وقت آ جائے۔پس قرآن کریم نے اس لمبے مضمون کو اس طرح مختصر کر دیا کہ آغاز سفر اور مقصد سفر بیان فرما دیا اور پھر انجام سفر بیان فرما دیا۔فرمایا کہ پھر تم جانتے ہی ہو کہ اسے کوئی پانی نہیں ملتا اور اس کا زندگی کا