خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 599
خطبات طاہر جلد ۹ 599 خطبہ جمعہ ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۰ء جہاں تک سائنسی تحقیق کا تعلق ہے غالباً چوتھے یا پانچویں مہینے کے درمیان ایسا واقعہ ہوتا ہے کہ اچانک بچے میں زندگی پڑ جاتی ہے۔آج کل تمام دنیا میں Abortion کے متعلق جو بخشیں ہو رہی ہیں کہ کس حد تک اسقاط حمل وقت سے پہلے کرنا جائز ہے یا نہیں ہے۔اسقاط حمل کس حد تک جائز ہے اور کب جائز ہے؟ تو آخری رجحان جو ہے وہ یہی ہے کہ جب تک بچے میں زندگی نہ پڑے اس وقت تک کوئی بڑی اخلاقی روک اسقاط حمل کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئے۔لیکن جب زندگی پڑ جائے تو اس کے بعد اس کا اپنا ایک الگ وجود بن جاتا ہے پھر جب تک داکٹری یا طبی رائے کے مطابق ماں کو خطرہ در پیش نہ ہو اس وقت تک بچے کو گرا نا مناسب نہیں یا جائز نہیں۔تو یہ وہ موقع ہے جسے ہم فخ روح“ کہتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بچے میں، جنین میں روح پھونکی جاتی ہے وہ دوسرے اندھیرے جن کا اسی آیت میں ذکر ہے جو انسانی زندگی کے ارتقاء پر پھیلے ہوئے ہیں ان میں بھی یہی بات اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جب تک ہم نے آدم کو ٹھیک ٹھاک کر کے یعنی بنالیا، درست کرلیا، جب تک اس میں روح نہیں پھونکی فرشتوں کو اس کی اطاعت کا حکم نہیں دیا۔جب ہم نے اس میں روح پھونکی تو پھر ایک خلق آخر بن گیا۔ایک نئے وجود کے طور پر وہ ظاہر ہوا۔پس دونوں اندھیروں کو روشنی میں تبدیل کرنے کے لئے فخ روح کی ضرورت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذاتی طور پر ایک الہامی کیفیت کے نازل ہونے کی ضرورت ہے۔ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کی ہے بچے کی صورت میں لیکن لازماً ایک حکم آتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے اس سوال کے جواب میں کہ روح کیا چیز ہے؟ فرمایا: کہہ دے کہ یہ امرِ رَتي (بنی اسرائیل:۸۲) ہے۔اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت بیان نہیں ہوسکتی۔جب تک یہ امر نازل نہ ہواس وقت تک کوئی چیز زندہ نہیں ہو سکتی تو یہ جواند ھیرے ہیں ان میں سب سے زیادہ خطرناک اندھیر اوہ آخری ہے جس میں انسان کچھ بھی باہر سے براہ راست حاصل نہیں کر سکتا۔نہ دیکھنے کی ، نہ سننے کی طاقت، نہ بولنے کی کلیۂ ایک دوسرے کے فیض پر انحصار پانے والی زندگی بسر کر رہا ہے جب خدا تعالی کی طرف سے نفخ روح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی بچہ اچانک تم دیکھتے ہو کہ سمیعًا بَصِيرًا (الدھر:۳۰) ہو جاتا ہے۔سننے والا اور دیکھنے والا بن جاتا ہے۔یہاں بولنے کا ذکر نہیں فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ بولنے کا انحصار دراصل سننے پر ہے اور باہر