خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 597 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 597

خطبات طاہر جلد ۹ 597 خطبه جمعه ۱۲ را کتوبر ۱۹۹۰ء سورہ الزمر کی ساتویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ تمہیں خدا نے ایک ہی جان سے پیدا فرمایا۔پھر اسی جان سے تمہارا جوڑا بھی بنایا اور تمہارے لئے آٹھ جوڑے انعام میں سے پیدا فرمائے يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش کی صورت میں فی ظُلمتِ ثَلث تین اندھیروں میں، ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُم یہ ہے تمہارا رب لَهُ الْمُلْكُ وہی مالک ہے اسی کے لئے بادشاہت ہے۔اس کی ہر چیز ملکیت ہے لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔فَانى تُصْرَفُونَ پھر تم کہاں الٹے پھر رہے ہو، کہاں بہکتے پھر رہے ہو۔کس طرف لوٹ کر جاؤ گے خدا سے ہٹ کر۔یہاں دوسرے حصے میں تو تین اندھیروں کا ذکر تین کہہ کر فرمایا اور پہلی آیات میں تین اندھیرے بیان فرمائے لیکن لفظ تین وہاں بیان نہیں فرمایا۔ان دونوں کو اگر آپ غور سے پڑھیں تو ایک آیت کے مضمون سے دوسری آیات کے مضمون کو سمجھنے میں بڑی سہولت ملتی ہے، آسانی پیدا ہو جاتی ہے لیکن سب سے پہلے میں یہ دوسری آیت جو بعد میں پڑھی ہے اس کے متعلق کچھ کہتا ہوں۔قرآن کریم نے ماں کے پیٹ میں بچے کا اندھیروں میں پیدا ہونے کا جو ذکر فرمایا ہے اس سے مختلف مفسرین نے مختلف اندھیروں کے متعلق کچھ بیان کیا ہے لیکن اس سے مراد صرف وہ ظاہری اندھیرے نہیں ہیں جو ماں کے پیٹ میں تہہ بہ تہہ پائے جاتے ہیں بلکہ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ میں ایک اور مضمون بیان فرمایا اور وہ انسانی زندگی کے ارتقاء کا مضمون ہے۔انسانی زندگی تین بڑے ادوار میں ارتقاء پذیر ہوئی ہے ایک وہ جو قرآن کریم کے بیان کے مطابق نباتا کا دور تھا۔خدا فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں نبات کی طرح اگایا۔یعنی جب انسان ابھی نباتاتی دور میں تھا اور حیوانی زندگی میں داخل نہیں ہوا تھا۔دوسرا دور ہے حیوانی زندگی کا دور ،اور تیسرا ارتقاء ہے انسانی زندگی کا ارتقاء اور جب تک خدا تعالیٰ نے اپنی روح آدم میں نہیں پھونکی باوجود اس کے کہ اس سے پہلے آدم پیدا ہو چکا تھا اسے نور نصیب نہیں ہوا اور مذہب کے آغاز سے قبل کی انسانی زندگی بھی اندھیروں میں بسر ہو رہی تھی۔پس دراصل تو یہ ایک بہت ہی گہرا اور لمباوسیع مضمون ہے جس میں خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ کہ کہ ہمیں توجہ دلائی گئی کہ جن اندھیروں کا ہم بنیادی طور پر ذکر کر رہے ہیں یہ تمام زندگی کے ہر دور پر پھیلے