خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 596 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 596

خطبات طاہر جلد ۹ 596 خطبه جمعه ۱۲ را کتوبر ۱۹۹۰ء میں بسر کر کے ضائع کر دیتا ہے میرے ذہن میں اس وقت قرآن کریم کی یہ چند آیات تھیں جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اور خیال تھا کہ وقت ہوتا تو میں ان حجابات ، ان پردوں سے متعلق کچھ مزید وضاحت کرتا لیکن ایک ہی خطبے میں چونکہ یہ ممکن نہیں تھا اس لئے میں نے اس مضمون کو آج کے اس خطبے کے لئے بیچارکھا۔یہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں سے پہلی دو آیات سورۃ النور کی ہیں۔چالیس اور اکتالیس اور دوسری آیت سورۃ الزمر کی ساتویں آیت ہے پہلی آیات میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسے سراب کی سی ہے جو بقیعة یعنی ایک کھلے چٹیل میدان میں پیدا ہوتا ہے۔پیاسا اس کو پانی تصور کرتا ہے إذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدُهُ شَيْئًا یہاں تک کہ جب اس کی طرف سعی کرتا ہوا اس کی طرف دوڑتا ہوا اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ پانی سمجھ رہا تھا کہ پانی واقعہ ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں پاتا۔وَوَجَدَ اللهَ عِنْدَہ ہاں خدا کو اس جگہ پاتا ہے۔فَوَقْهُ حِسَابَہ اور وہ اس کو اُس کا پورا پورا حساب دیتا ہے۔واللہ سَرِيعُ الْحِسَابِ اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔اَوْ كَظُلمتِ یا ان اندھیروں کی طرح فِي بَحْرِتی جو ایک بڑے ہی پر جوش گہرے سمندر میں پیدا ہوتے ہیں يَخْشُهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْج ان کو موج کے بعد ایک اور موج ڈھانپ لیتی ہے۔مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ اور اس کے اوپر بادلوں کا سایہ ہوتا ہے یعنی سورج کی روشنی بھی براہ راست اس سمندر تک نہیں پہنچتی ظُلمتُ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ يه ایسے اندھیرے ہیں کہ ایک کے اوپر دوسرے اندھیروں کی لہریں ہیں ، دوسرے اندھیروں کے سائے اور پردے ہیں إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْيَر تھا اور ظلمت اتنی گہری ہوتی ہے کہ اگر وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر اپنا ہاتھ دیکھنا چاہے تو اسے بھی دیکھ نہ ہے۔وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا جس کے لئے خدا تعالیٰ نور پیدا نہ فرمائے فَمَا لَهُ مِنْ نُّورِ اس کے لئے کوئی نور نہیں ہے۔ان آیات سے ملتے جلتے مضامین ایک دوسری آیت میں بیان ہوئے ہیں اور جس طرح یہاں بھی تین اندھیروں کا ذکر ہے وہاں بھی تین اندھیروں کا ذکر ہے لیکن وہ مضمون بظاہر اس سے بالکل الگ مقام پر واقعہ ہے اور سرسری نظر سے ان دونوں کا تعلق معلوم نہیں ہوتا۔دوسری آیت یعنی