خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 55
خطبات طاہر جلد ۹ 55 59 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء لوگوں کے دو قسم کے طبقات ہیں ایک وہ جو سادہ لوح ، عام فہم لوگ ، ان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہی نصیحت ضروری ہے کہ تم چونکہ اہلیت نہیں رکھتے کہ بار یک سوالوں پر غور کر سکو۔اس لئے تم اپنے را ہنماؤں کے پیچھے چلنا سیکھو اور جو تمہیں بتایا جاتا ہے اس پر یقین کے ساتھ قدم مارو اسی میں تمہاری بہبود ہے اور دوسرا طبقہ وہ ہے جو عرفان رکھتا ہے وہ بات سمجھتا ہے گہرائی تک اترتا ہے اور محض علم کے پیچھے نہیں چلتا بلکہ علم کے اندر جو فلسفہ پنہاں ہوتا ہے جو حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں ان پر نظر رکھتے ہوئے اس کے علم کو مزید طاقت ملتی چلی جاتی ہے۔ایسا طبقہ صاحب عرفان لوگوں کا طبقہ ہے اور ہر بچے مذہب میں ان دونوں طبقات کا ہونا ضروری ہے ورنہ اگر اہل فکر ونظر مذہب سے دور ہٹنے لگ جائیں تو یقین جانیں کہ اس مذہب میں کوئی کمزوری ہے۔یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات جب باہر کے دانشور مجھے ملتے ہیں تو میں احمدیت کی یہ مثال ان کے سامنے رکھا کرتا ہوں کہ احمدیت کی سچائی کو دیکھنے کے لئے آپ جیسا دانشور اس بات پر ضرور نظر رکھے کہ احمدیت میں جو جہلاء ہیں عوام الناس ہیں ان کا ایمان ان سے زیادہ مضبوط نہیں جو صاحب فکر و نظر ہیں بلکہ حقیقت میں اہل فکر ونظر کا ایمان زیادہ مضبوط اور زیادہ پختہ ہے اور اس پہلو سے ان دونوں طبقات میں آپ کوئی تفریق نہیں دیکھیں گے کوئی فاصلے نہیں دیکھیں گے۔ایک احمدی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ہیں جو Physists سائنس دانوں کی دنیا میں ایک بہت عظیم الشان مقام رکھتے ہیں اور تمام دنیا میں ان کے علم کا لوہا مانا گیا ہے۔وہ اتنے ہی مخلص احمدی ہیں جتنا ایک ان پڑھ مزدور احمدی اور اسی طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح اگر ان کا چیڑ اسی احمدی ہو تو وہ اطاعت کرے گا۔تو جو اسلام ان دونوں کے اندر پیدا ہوا ایک اسلام بظاہر اندھے ایمان کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، دوسرا اسلام ایک عارف باللہ کا اسلام ہے جو صاحب دانش ہے، صاحب علم ہے, صاحب عرفان ہے ان دونوں کے اسلام میں کوئی فرق نہیں دکھائی دیتا۔اگر کوئی فرق ہوگا تو یہ کہ زلازل میں بعض دفعہ اندھے ایمان والا تو ٹھوکر کھا جایا کرتا ہے لیکن صاحب عرفان ٹھوکر نہیں کھایا کرتا یہ ایک الگ مضمون ہے جس کے بیان کرنے کی یہاں فی الحال گنجائش نہیں۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب تھے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو، بے شمار رحمتیں ان پر نازل فرمائے۔دنیا کے کتنے بلند مقامات تک پہنچے لیکن ان کے اسلام کی کیفیت یہ تھی کہ بہت سے