خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 54

خطبات طاہر جلد ۹ 54 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء سامنے تلاوت کی مگر اس پر آنے سے پہلے میں ایک اور وضاحت آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں بار بار یہ نصیحت پڑھتے ہیں کہ تم سوال اٹھائے بغیر پیروی کرو جو کچھ کہا جاتا ہے وہی اختیار کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی اطاعت کرو اور آپ کے دین پر اس طرح چلو کہ کوئی سوال نہ اُٹھاؤ بلکہ جس طرح اندھی تقلید کی جاتی ہے اس طرح تقلید کرتے چلے جاؤ اسی میں تم محفوظ ہو۔تو اس پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ پھر یہ کیسا مذہب ہے جو اندھی تقلید کے سہارے زندہ رہتا ہے اور صاحب فکر ونظر کے لئے کوئی سوال کی گنجائش نہیں چھوڑتا اور اگر یہ مذہب یہی کچھ ہے کہ تم نے اندھی تقلید کرنی ہے اور کوئی سوال نہیں اٹھانا تو اہل نظر کا ایسے مذہب سے ایمان اٹھ جاتا ہے۔پھر کیوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات پر اتنا زور دیا ہے۔یہ سمجھانے کے لئے میں ایک اور پہلو آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ وہ مذاہب جو حقائق پر مبنی ہوں، جو روشنی سے پیدا ہوئے ہوں ان میں حقیقت یہ ہے کہ اندھی تقلید اور صاحب فکر کی تقلید میں فرق کوئی نہیں کر رہا بلکہ اہل فکر و نظر کی تقلید اگر کوئی فرق رکھتی ہے تو اندھی تقلید سے زیادہ پختہ ہو جاتی ہے۔پس وہ مذاہب جن کے عامتہ الناس کا مذہب بھی پختہ ہو اور ان کے اہل فکر و نظر کا مذ ہب بھی پختہ ہو ان پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوا کرتا کہ تم نے اندھی تقلید سکھا کر ہمیں خدا جانے کیا کچھ دے دیا ہے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے تم نے تو ہمیں اندھی تقلید کی عادت سکھائی اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ اس بات میں کوئی روشنی ہے بھی کہ نہیں۔یہ سوال تب اٹھتا، اگر ایسی قوم کے صاحب فکر و نظر مذہب سے دور ہٹنے شروع ہو جاتے اور دونوں طبقوں کے درمیان ایک خلا بڑھتا چلا جاتا اور فاصلے زیادہ ہوتے چلے جاتے۔لیکن وہ قوم جس میں دانشور اور اعلیٰ درجہ کے صاحب فکر و نظر لوگ اپنے مذہب میں کمزور ہونے کی بجائے زیادہ پختہ ہو جائیں۔ان کے عوام الناس کے مذہب پر وہ گواہ بن جاتے ہیں اور ان کی صداقت پر شہید ہو جاتے ہیں اور دنیا پر یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ مذہب جس میں ایک بڑا طبقہ اندھی تقلید کر رہا ہے اپنی ذات میں سچا ہے کیونکہ ان کے صاحب فکر و نظر اور اہل دانش نے بھی اس تقلید میں اعلیٰ نمونے پیش کئے بلکہ اپنے جاہلوں سے بڑھ کر نمونے پیش کئے۔پس عرفان کا بھی ایک مقام ہے جو مذہب میں ایک بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔دیندار