خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 593
خطبات طاہر جلد ۹ 593 خطبه جمعه ۵ اکتوبر ۱۹۹۰ء دیکھی مگر اس کے باوجود انسان اس دنیا میں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے اس طرح رہتا ہے جیسے ہمیشہ یہیں رہے گا۔اپنے مفادات کی خاطر اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر بے دھڑک آخرت کے مفادات کو قربان کرتا ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے عزیزوں سے ناراض ہوتا ہے۔ان کی زندگی بھی تلخ کرتا ہے اپنی زندگی بھی تلخ کرتا ہے اور نہیں سوچتا کہ اس چند روزہ دنیا نے جب ختم ہونا ہے تو انسان کو یوں محسوس ہوگا جیسے میں کچھ رہا ہی نہیں۔چند گھڑیاں رہا ہوں اس وقت یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ خوامخواہ تھوڑی دیر کی خاطر میں نے ساری زندگی برباد کر لی اور انسان یہ ارادہ کرتا ہے کہ میں واپس جاؤں تو پھر میں یہ یہ کام کروں۔یہ سب جھوٹے قصے ہیں۔آج اگر آپ کوموت کا احساس نہ ہو تو آپ کی یہ زندگی سنور نہیں سکتی۔موت کے وقت کا احساس گزشتہ زندگی کوسنوار نہیں سکتا۔یہ دو دائی حقیقتیں ہیں ان کو اگر آپ نے بھلا دیا تو کچھ بھی حاصل نہیں رہے گا اگر ان کو آپ اچھی طرح ذہن نشین رکھیں اور پکڑے رکھیں تو آپ کی انفرادی اصلاح کے لئے بھی یہ عظیم الشان کام سر انجام دیں گی اور قومی اصلاح کے لئے بھی یہ دو باتیں یعنی جماعت کی زندگی کے لئے اور اس کی بقاء کے لئے بہت عظیم الشان کام سرانجام دینے والی ہوں گی۔بزرگوں نے جو قبروں کی زیارت کا لکھا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قبروں سے وہ کچھ مانگنے جاتے ہیں۔تمام انبیاء قبروں کی زیارت کرنے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی ماموریت سے پہلے بھی بزرگوں کی قبروں پر جایا کرتے تھے اور ویسے بھی قبور کی زیارت کیا کرتے تھے۔یاد رکھیں کہ اس میں ہرگز نعوذ بالله من ذلك مردہ پرستی کا تصور داخل نہیں جن بزرگوں کی میں بات کر رہا ہوں وہ مردہ پرستی سے تو اس طرح کراہت کرتے تھے جیسے ایک نفیس طبیعت کا انسان ظاہری گندگی سے کراہت کرتا ہے۔اس کے باوجود قبروں کے پاس جانا یا قبرستانوں میں جاکر ان کا خدا کی یاد میں غافل ہونا دراصل موت یاد کرانے کی خاطر ہوا کرتا تھا۔آج کل کے زمانے میں بھی لوگ پاکستان میں اور بعض دوسرے ممالک میں قبروں کی زیارت کرتے ہیں بلکہ بالکل الٹ مقصد کے لئے۔بزرگ قبروں پر اس لئے جاتے ہیں کہ موت یاد آئے اور یقین کریں کہ یہ سب لوگ مر چکے ہیں اور جو مردہ دل لوگ ہوں وہ قبروں پر اس لئے جاتے ہیں کہ یہ بھی نہیں مرے جو بظاہر مرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بھی زندہ ہیں اور ان سے مانگا جاسکتا ہے، ان