خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 591
خطبات طاہر جلد ۹ 591 خطبه جمعه ۵ /اکتوبر ۱۹۹۰ء میری چادر کی اندر کی زندگی کے مطابق ہے۔بسا اوقات بڑے سے بڑے بزرگ کی بھی دو حالتیں ہوتی ہیں ایک وہ جیسا کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا چادر اوڑھے ہوئے کی حالت کہ باہر سے لوگ اس کے دین کو دیکھ سکتے ہیں اس کے دل کی حالت سے بے خبر اور اس کے خفیہ اعمال سے بے خبر رہتے ہیں اور ایک وہ حالت ہے جو وہ اندر بیٹھا دیکھ رہا ہے۔سب سے بڑی تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ بعض لوگ اپنی اندر کی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب انسان اس احساس سے بالکل غافل ہو جاتا ہے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔پس اس مضمون کو اچھی طرح ذہن نشین کرانے کے لئے میں تفصیل سے یہ بات آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہم میں سے وہ جو سچا ایمان لانے والا ہے اور واقعہ ایمان لانے والا ہے وہ یہ تو کہہ ہی نہیں سکتا، یہ تو سوچ ہی نہیں سکتا کہ میں خدا کے سامنے پیش نہیں ہوں گا ہر احمدی یہ یقین رکھتا ہے لیکن پیش ہونے سے پہلے اس دنیا میں اگر اس کو یہ پتا نہ ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے تو اسی حد تک پیش ہونے کی ذمہ داریوں سے وہ غافل ہوتا چلا جائے گا اور اس یقین کے باوجود کہ میں نے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے انسان اپنے گناہوں کی حالت سے غافل ہونا شروع ہو جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے گناہوں کو اندھیرے کی حالت میں کیا ہے اور گناہوں کے وقت کوئی اسے دیکھ نہیں رہا تھا۔باشعور طور پر چاہے وہ نہ سمجھے لیکن غیر شعوری طور پر یہ یقینی بات ہے کہ گناہ کے وقت انسان خدا کی نظر سے غافل رہتا ہے۔یہ حالت جب بد سے بدتر ہونی شروع ہو تو بالآخر ایسے انسان کو خود اپنی اندر کی حالتوں کا بھی علم نہیں رہتا اور انسان غفلتیں کرتا ہے لیکن محسوس نہیں کرتا کہ میں نے کیا کیا ؟ یہ وہ چادر کے اندر ایک اور چادر ہے جس کے اندر وہ داخل ہو جاتا ہے اور اس حالت سے لوگوں کو نکالنا بہت ہی مشکل کام ہے۔تربیت کے دوران ہر قسم کے مواقع پر میں نے خاص طور پر یہ محسوس کیا ہے کہ وہ شخص جس نے صرف ایک ہی چادر اوڑھی ہوئی ہے اور بظاہر نیک ہونے کے با و جود وہ خدا کی نظر سے غافل بھی رہتا ہے اس کو اگر جھنجھوڑا جائے تو وہ سنبھل جاتا ہے اور بہت جلدی اس میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے لیکن وہ شخص جس کی اپنی نظر دھندلا جائے ، جو اپنے اعمال سے خود غافل ہو چکا ہو اس کو جھنجھوڑ کر جگانا بہت ہی مشکل کام ہے کیونکہ بسا اوقات وہ ایک بدی میں مبتلا ہوتا ہے آپ اس کو کہتے ہیں تم کر رہے ہو تو وہ آگے سے بھڑک اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ایسی بات