خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 586 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 586

خطبات طاہر جلد ۹ 586 خطبه جمعه ۵ اکتوبر ۱۹۹۰ء کہ اس سوال کی آخری حد کونسی ہوگی۔اگر ماں باپ کو یہ حق نہیں ہے کہ بچوں کو بعض باتیں کرنے سے روکیں تو حکومت کو کیا حق ہے کہ وہ شہریوں کو بعض باتیں کرنے سے رو کے کسی معاشرے کو کیا حق ہے کہ کسی کو کوئی بات کرنے سے رو کے اور ایک دفعہ یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ کسی کو کسی سے روکنے کا کوئی حق نہیں ورنہ وہ شخص جس کو روکا جاتا ہے بیچارہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے گا تو ہر قانون دنیا سے اٹھ جائے گا اور کسی کو کوئی حق نہیں رہتا۔ایک انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ چوری کرے کیوں اس کو چوری نہیں کرنے دیتے ؟ بعض لوگوں کا دل چاہتا ہے کسی کے منہ پر تھپڑ ماریں کیوں نہیں مارنے دیتے ؟ بعض دفعہ بغیر وجہ کے بھی دل چاہنے لگ جاتا ہے بعض بچوں کو عادت ہوتی ہے وہ برداشت نہیں کر سکتے کسی کمزور بچے کو دیکھیں تو جب تک اس کو مارنہ لیں ، اس کو دھکا نہ دیدیں اس وقت تک اس کو مزا نہیں آتا۔بچپن کی یہی عادت بعض بڑوں میں بھی ہو جاتی ہے۔ان کے دماغ میں اچانک جنون اٹھتا ہے کہ ہم کسی کو کچھ چھیڑیں، تنگ کریں، اس کے بغیر ان کو لطف نہیں آتا۔اگر انسانی نفسیات کا یہ تقاضا ہے کہ جو خواہش ہواس کو پورا کر دینا چاہئے اور روکنے کا کسی کو حق نہیں تو پھر صرف مذہب کا سوال باقی نہیں رہتا۔دنیا کے ہر معاملے میں اور تعلقات کے ہر دائرے میں یہی قانون نافذ ہوگا۔اور اس کے نتیجے میں انسان ہر ذمہ داری سے کلیہ آزاد ہو جائے گا۔پس ذمہ داریوں سے آزادی کا رجحان ہے جو آج کی دنیا میں آپ دیکھ رہے ہیں اور یہ رجحان دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ان کو آپ جب تبلیغ کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں یہ خوبیاں ہیں اور اسلام میں وہ خوبیاں ہیں تو آخر پر ان کی تان اکثر اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ عورت کو اسلام کیا آزادی دتیا ہے اور میں اس سوال پر پھر مرد اور عورتیں سب مشترک ہو جاتے ہیں، اکٹھے ہو جاتے ہیں۔آپ جواب دیں اور ان کو عقلی طور پر مطمئن بھی کرائیں لیکن ان کی مسکراہٹ بتارہی ہوتی ہے کہ تم جو چاہوکر لو ہم اس معاشرے کو چھوڑنے والے نہیں۔عورتیں جو بن ٹھن کر باہر نکلتی ہیں اور مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں ارادہ یا غیر ارادی طور پر ، اپنے رہن سہن کی طرز کی بنا پر میری مراد ہے وہ مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ان کو وہ سمجھتے ہیں کہ واپس تو اب کوئی نہیں دھکیل سکتا نہ ہم ان عادتوں کو چھوڑنے والے ہیں۔