خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 585 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 585

خطبات طاہر جلد ۹ 585 خطبه جمعه ۵ اکتوبر ۱۹۹۰ء دوصدیوں کا دور تھا۔صرف یورپ نہیں کہنا چاہئے امریکہ بھی اس میں شامل ہے اور مغربی دنیا یا مغربی دنیا سے متأثر ساری قومیں اس میں شامل ہیں۔ایک عرصے کے بعد آخرت کا سوال نہیں رہتا بلکہ جواب طلبی کا تصور قریب آجاتا ہے اور انسان یہ سوچنے لگتا ہے کہ میں کیوں کسی کے سامنے جواب دہ ہوں۔جب کوئی خدا نہیں ہے کوئی پیدا کرنے والا نہیں ہے میں خود ہوں جو اپنے سامنے جوابدہ ہوں اس لئے مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ میں معاشرے کی پابندیوں کا خیال کروں ، تہذیب کی پابندیوں کا خیال کروں ، اچھے برے کی پابندیوں کا خیال کروں اس دور میں داخل ہو کر انسانی علوم بھی نئے نئے شاخسانے چھوڑنے لگتے ہیں اور بدی اور برائی کے درمیان کوئی تمیز باقی نہیں رہتی چنانچہ آج کل جو مغربی دنیا میں معاشرے سے متعلق اور اخلاقیات سے متعلق جو فلسفے پڑھائے جاتے ہیں ان میں اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ اچھے اور بُرے کے درمیان جور وایتی تمیزیں تھیں وہ مٹ چکی ہیں اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ اچھا کیا ہے اور بُرا کیا ہے۔ہر شخص آزاد ہے۔اگر ماں باپ بچے کو یہ سمجھا سمجھا کر بعض باتوں سے باز رکھیں کہ یہ باتیں بُری ہیں تو وہ دراصل بچے پر ظلم کرنے والے ہوں گے اور اس کی آزادیاں سلب کرنے والے ہوں گے۔چنانچہ ایک دفعہ جب میں جرمنی گیا تو وہاں سوالات میں ایک یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ آپ بچوں کی آزادیاں کیوں سلب کرتے ہیں؟ کیوں بچوں کو اپنی مرضی سے جو کچھ وہ چاہیں کرنے نہیں دیتے؟ اور جب میں نے اس کا جواب دیا اور سمجھانے کی کوشش کی تو غالباً مجلس میں سے ہی کسی نے بتایا کہ ہمارے سب سکولوں میں استاد بالعموم یہ کہنے لگے ہیں کہ یہ سب پرانی باتیں ہیں کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو۔ہر شخص آزاد ہے جو دل میں آتا ہے کرو اور اگر تم نے نہ کیا تو پھر تم نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاؤ گے اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاؤ گے۔اب جواب طلبی سے یہ انکار آخرت کی بات نہیں رہی اس دنیا میں آگئی اور اس کے نتیجے میں پھر حکومت کے قوانین سے انکار کارجحان بھی بڑھتا چلا جاتا ہے اور بے راہ روی جو ہے اس کی کوئی حد نہیں رہتی۔پس قرآن کریم جو مضمون بیان کرتا ہے اس میں بہت ہی گہرائی ہوتی ہے اور انسانی فطرت سے اس کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔پس یہاں فرمایا کہ دنیا کی طرف تمہارا بڑھتا ہوار جان تمہیں بے راہ روکر دے گا اور بھٹکادے گا اور فرائض سے غافل کر دے گا۔اور آج مغربی دنیا میں ہم یہی دور دیکھ رہے ہیں۔میں نے اس سوال کرنے والے سے کہا کہ یہ جو تم نے سوال اٹھایا ہے اپنے استاد سے پوچھو