خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 577
خطبات طاہر جلد ۹ 577 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۹۰ء میسر نہیں ہوگی۔یا یوں کہنا چاہئے کہ کھانے والے منہ زیادہ ہو جا ئیں گے اور اگانے والے کھیت کم ہو جائیں گے۔یہ ایک فلسفہ ہے جو آج کل کی مادی دنیا میں چل رہا ہے۔عموماً اس آیت کا اسی مضمون پر اطلاق ہوتا ہے مگر مجھے یہ خیال آیا اور میں سمجھتا ہوں یہ مضمون بھی درست ہے اسی آیت سے نکلتا ہے کہ اگر تم اپنی اولاد کو مالی قربانی سے روکو گے اس خیال سے کہ وہ غریب نہ ہو جائیں۔تمہاری مجموعی دولت میں کمی نہ آجائے تو یا درکھو کہ تم اپنے ہاتھ سے اپنی اولاد کو قتل کرنے والے ہو گے۔پس میں خوب کھول کر جماعت کو یہ باتیں سمجھاتا ہوں کہ حقیقت میں جماعت کوان معنوں میں ضرورت نہیں ہے کہ اب فلاں چندہ نہ آیا تو یہ ضرورت پوری نہیں ہوگی ،فلاں چندہ نہ آیا تو یہ ضرورت پوری نہیں ہوگی مگر جماعت کو اس پہلو سے یاد دہانی کی شدید ضرورت ہے کہ ہمیشہ جماعت میں ایک ایسا طبقہ ہوگا جسے قربانی کا فلسفہ سمجھ نہیں آتایا قربانی کرتا ہے تو اس میں لذت محسوس نہیں کرتا اور نہیں جانتا کہ مالی قربانی کے بغیر اسے کتنے خطرات ہیں، کیسے کیسے نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔اس کے دین، اس کے اعمال کے ضائع ہونے کا بھی خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔پس ایسے طبقے کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ بار بار نصیحت کی جائے اور یاددہانی کرائی جائے۔جماعت کی مجموعی زندگی بھی مالی قربانی کو دوام بخشنے سے وابستہ ہے اور جماعت کی انفرادی زندگی بھی مالی قربانی کو دوام بخشنے سے وابستہ ہے۔لیکن مالی قربانی کو دوام اس طرح بخشنا ضروری ہے کہ اس کے لطیف پہلوؤں پر نظر ر ہے اور مالی قربانی کے نتیجے میں انسان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔یہ تجارت تو ہے مگر اور قسم کی تجارت ہے یہ ایسی تجارت ہے جیسے میں نے بیان کیا کہ تحفہ پیش کرتے وقت بھی انسان کچھ حاصل کرتا ہے۔سوئے بچے کو ماں بھی کچھ نہیں دیتی الا ماشاء الله۔یہی چاہے گی کہ بچہ دیکھ رہا ہو کہ میں اسے کیا دے رہی ہوں تو پھر دیتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے دینا تو ہے ہی میں اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھاؤں۔اس سے پیار کے جذبات کیوں نہ لے لوں۔پس مالی قربانی کی روح یہ ہونی چاہئے اور یہ ہے اس کا لطیف پہلو جس پر ہمیشہ جماعت کی نظر رہنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ تو کبھی نہیں سوتا لیکن وہ دلوں کا حال ضرور جانتا ہے اگر غفلت کی حالت میں آپ نے قربانی دی تو یہ حال ہو گا کہ گویا سوتے ہوئے میں آپ کے ہاتھ سے کوئی پیسہ گر گیا اور کسی نے اٹھالیا اور اس لذت سے آپ محروم ہو جائیں گے اس لئے ماں والی مثال خدا پر یوں اطلاق نہیں