خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 576 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 576

576 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۹۰ء خطبات طاہر جلد ۹ بچے تو ایسے ہیں جو اپنے ماں باپ کے سکھانے پڑھانے پر اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ کر اور یقین کے بعد اپنی تنخواہ ملتے ہی یا اپنے منافع ہوتے ہی وہ مجھے بھجوا دیتے ہیں کہ اسے جس طرح بھی چاہیں خدا کی راہ میں استعمال کریں کیونکہ ہمیں خدا نے یہ توفیق عطا فرمائی۔ہمارا پہلا کمایا ہوا رزق ہے۔تو اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس قسم کے ماں باپ ہیں اور کس قسم کی وہ اگلی نسلیں تیار کر رہے ہیں۔بعض بچے ہیں جو جب وہ کمانے لگتے ہیں تو نظر سے غائب ہونے لگتے ہیں، یہاں تک کہ اگر پہلے جماعت میں وہ آتے جاتے بھی ہوں اور معروف بھی ہوں تو رفتہ رفتہ سرکنے لگ جاتے ہیں گویا ان کی دولت ان کے لئے ایک لعنت بن جاتی ہے اور بعض بچے سعید فطرت ہوتے ہیں۔مجھے ایک دفعہ ایک بچے نے اپنے ماں باپ کی شکایت لکھی۔اس نے کہا کہ جب میں نے کمائی شروع کی اور خدا کی خاطر قربانی شروع کی تو میرے ماں باپ مجھے سمجھانے لگے کہ اتنا نہ کرو، ظلم ہے اور کچھ اپنے لئے بچاؤ۔کچھ فلاں کے لئے کرو، کچھ فلاں کے لئے کرو، تو اس بچے نے مجھ سے پوچھا کہ میرا دل تو نہیں چاہتا کہ ماں باپ کے کہنے میں آکر خدا کے حضور مالی قربانی پیش کرنا بند کر دوں۔آپ مجھے بتائیں کیا میرے لئے یہ گناہ تو نہیں ہوگا اگر اس معاملے میں میں ماں باپ کی بات نہ مانوں؟ معلوم ہوتا ہے وہ بہت ہی سعید فطرت نو جوان تھا۔اس کو ایک یہ بھی ڈر تھا کہ اگر چہ نیکی سے روک رہے ہیں مگر ماں باپ ہیں ان کی اطاعت کا بھی حکم ہے۔میں نے پھر اس کو سمجھایا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ معاملہ بالکل طے ہو گیا۔تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خلافت کا مقام تو اس طرح ہے جیسے ایک بہت ہی وسیع عالمی خاندان کا کوئی سر براہ ہو جس سے بے تکلفی سے لوگ اپنی باتیں کرتے رہتے ہیں، ہرقسم کی باتیں چھیڑتے ہیں۔ماں باپ بچوں کی شکایتیں کرتے ہیں بچے ماں باپ کی شکاتیں کرتے ہیں لیکن پیار کے ماحول میں اور اصلاح کی خاطر تو اس پہلو سے میری توجہ قرآن کریم مفہوم کی ایک آیت کے ایک اور مضمون کی طرف بھی ہوئی جس طرف پہلے عموما خیال نہیں گیا تھا۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اپنی اولا د کو اموال کے ڈر سے قتل نہ کرو۔اس کا عام طور پر من یہی سمجھا جاتا ہے اور وہ بھی درست ہے کہ اس لئے برتھ کنٹرول نہ کرو اس لئے خاندانی منصوبہ بندی نہ کرو کہ تم لوگ غریب ہو جاؤ گے۔قوم کی جو مجموعی اقتصادی حالت ہے وہ اس کی بڑھتی ہوئی آبادی کو برداشت نہیں کر سکے گی اور کھانے والے منہ زیادہ ہو جائیں گے اور روٹی کھانے کے لئے زیادہ