خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 53
خطبات طاہر جلد ۹ 53 53 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء ہیں۔ایک بچے کو کسی بات کا خوف ہو، خواہ وہ خوف والی بات نہ بھی ہو۔ماں باپ بعض دفعہ لا کھ اس کو سمجھائیں کہ میاں کوئی ڈرنے کی بات نہیں ہے وہ اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ایک بچہ ہم نے دیکھا تھا جس کو جانوروں سے اتنا خوف تھا کہ جانوروں کے بنے ہوئے کھلونوں سے بھی ڈرتا تھا اور میں نے خود اس سے کئی دفعہ چھوٹی عمر میں کھلونوں کا خوف دور کرنے کی کوشش کی اس کو پیار سے پاس بلایا دیکھو میں اس کو ہاتھ لگا رہا ہوں یہ تمہیں کچھ نہیں کہتا لیکن اس کا خوف دور نہیں ہور ہا تھا۔تو اس کا عمل اس ایمان کے نتیجے میں تھا جو اس کے دل میں حاصل ہے اور وہ ایمان کسی سوچ کے نتیجے میں نہیں۔پس جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے ، ان کے لئے محفوظ مقام یہی ہے کہ وہ ایسا ایمان اختیار کریں جس کے نتیجے میں ان کا عمل بھی اسی قسم کے پختہ سانچوں میں ڈھالا جائے اور اس پر کسی قسم کا زلزلہ نہ آسکے۔وہاں ان کا عمل ان کے ایمان کی نشاندہی کرتا ہے۔پس عوام الناس میں اگر اعمال میں کمزوری ہو تو اس کا چونکہ اسلام سے تعلق ہے، اس سے صاف سمجھ جانا چاہئے کہ ان کے ایمان میں کمزوری ہے ورنہ یہ بات بالکل ساده سی واضح اور ثابت ہو چکی ہے کہ اگر سادہ لوح انسانوں میں جو فکر و نظر کی بجائے بعض عقائد کے پیش نظر اپنی زندگی کے رستے اختیار کرتے ہیں۔ان میں اگر عقائد مضبوط ہوں تو ان کے رستے بھی بڑے واضح ہو جاتے ہیں ان رستوں پر وہ لازماً آگے بڑھتے ہیں۔پس وہ عوام الناس جو اپنے اعمال میں پختہ ہیں ان کے اعمال کے شیشے سے ہم ان کے ایمان کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور ہمیں صاف دکھائی دینے لگتا ہے کہ وہ پختہ ایمان والے لوگ ہیں۔مگر صاحب فکر ونظر میں یہ تناسب باقی نہیں رہا کرتا اور بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس لئے جہاں تک عوام کا تعلق ہے ان کے لئے دو ہی بہترین مثالیں ہیں جن کی پیروی کرنی چاہئے ایک بوڑھوں کا ایمان اور ایک بچوں کا ایمان لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایمان کی روشنی جب فکر ونظر پر عمل کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں عرفان پیدا ہوتا ہے اور عرفان کے نتیجے میں پھر ایک اسلام پیدا ہوتا ہے اور وہ اسلام عام بوڑھے اور عام بچے کے اسلام سے بہت زیادہ پختہ ہوتا ہے کیونکہ وہاں اس کو یقین کی روشنی نصیب ہو چکی ہوتی ہے۔محض عقیدے کی وجہ سے یا ایک اندھے عقیدے کی وجہ سے وہ ایک عمل نہیں کر رہا ہوتا بلکہ یقین کی روشنی میں ایک عمل کرتا ہے۔یہ مضمون بیان کرنے کے لئے میں نے اس آیت کا انتخاب کیا تھا جو میں نے آپ کے