خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 571
خطبات طاہر جلد ۹ 571 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۹۰ء ہے کہ ساری دنیا میں بغداد سب سے زیادہ دولت مند شہر تھا اور دنیا کی سب سے زیادہ نعمتیں بغداد میں پائی جاتی تھیں۔پاکستان وغیرہ سے آنے والے اب جب انگلستان آتے ہیں یا امریکہ جاتے ہیں تو یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ ہر موسم کا ، ہر جگہ کا پھل یہاں موجود ہے۔دنیا کی ہر نعمت کو ان امیر ممالک نے اپنی طرف مقناطیس کی طرح کھینچا ہوا ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں بغداد کو یہ مقام حاصل تھا کہ سب دنیا کی ہر نعمت وہاں پہنچا کرتی تھی۔پس اس سلسلے میں میں نے صرف یہ ایک مثال دی ہے ایک پہلو جو قرآن کریم ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ خدا کی راہ میں ادا کرنے سے یا قربانیاں کرنے سے تم امیر ہوگے کیونکہ تمہاراغنی سے تعلق جڑے گا اور اگر اس تعلق کو کاٹو گے تو تم فقراء ہو جاؤ گے۔پس مذہبی قومیں اگر مالی قربانی کو بھلا دیں تو پھر ان پر غربت کی مار پڑا کرتی ہے۔اگر وہ مالی قربانی میں پیش پیش ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کو بے انتہا دولتیں عطا کیا کرتا ہے۔یہ وہ راز ہے جسے ہمیں خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے اور قومی اقتصادی تعمیر کے سلسلے میں بھی اسے استعمال کرنا چاہئے۔یہاں یہ فرق ضرور پیش نظر رہے کہ جو مالی قربانی کرتا ہے وہ اس نیت سے نہیں کرے گا کہ خدا مجھے اور دے مگر جس نے قومی تعمیر کرنی ہے وہ قوم کی حالت بدلنے کے لئے قوم میں قربانی کی روح ضرور پیدا کرے گا۔ان دونوں باتوں میں فرق ہے ، ایک آدمی اس لئے خدا کو دے کہ اے خدا! میں تجھے دس روپے دے رہا ہوں اب مجھے پچاس کر کے واپس کر دے تو یہ ایک بالکل جاہلانہ خیال ہوگا۔وہ اپنی قربانی کو خود تباہ و برباد کر دے گا۔قرآن کریم نے فرمایا ہے: وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (المدثر : ے) کہ کسی پر احسان بھی نہ کرو اس نیت سے تا کہ تم زیادہ حاصل کرلو۔تو خدا کو دینے کے وقت تو احسان کا معاملہ نہیں ہوا کرتا۔یہ ایک عاجزانہ ہدیہ ہے جسے قبول کرلے تو ہمارے لئے اسی میں سعادت ہے، وہی ہمارا اجر ہے۔پس جب میں یہ باتیں بیان کرتا ہوں تو غلط نہ سمجھیں ، میں ہر گز آپ کو یہ نہیں سمجھا رہا کہ آپ میں سے ہر شخص خدا کی خاطر اس نیت سے قربانی کرے کہ خدا اس کے مال کو بڑھائے گا، لیکن وہ لوگ جنہوں نے قوم کی تعمیر کرنی ہے جن کے پاس قومی ذمہ داریاں ہیں ان کا فرض ہے کہ مسلسل قوم کے مالی قربانی کے معیار کو بڑھاتے چلے جائیں اور جان لیں اور یقین رکھیں کہ اس طرح قوم کی اقتصادی مشکلات کاحل بھی ہوگا